رسائی کے لنکس

اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، غیر معیاری ادویات کے استعمال سے ’ لوگوں کو دماغی خلل کی بیماری لاحق ہوسکتی ہے۔ لوگ عارضہ ِقلب کا شکار ہوسکتے ہیں۔ لوگ شدید دماغی مسائل سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ اِن مادّوں کے استعمال کےباعث فالج گِر سکتا ہے۔‘

اقوام متحدہ کے انسداد ِمنشیات کے ادارے کا کہنا ہے کہ انتہائی نشہ آور اور ’ڈیزائنر ڈرگز‘ تیزی سےمارکیٹ میں آرہی ہیں اور قانونی طور پر بیچی جارہی ہیں، جِن کے باعث صحتِ عامہ کو بے تحاشا چیلنجوں کا سامنا ہے۔

عالمی ادارے کے منشیات اور جرائم سے متعلق دفتر کا کہنا ہے کہ دماغ پر اثر انداز ہونے والی ادویات ، جنھیں ’این پی ایس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، قانونی اور کھلے عام بِک رہی ہیں۔ لیکن اِن کے حفظانِ صحت کے معیار پر پورے اترنے کے بارے میں ضروری آگاہی موجود نہیں۔

’وائس آف امریکہ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ادارے کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کے شریک مصنف، تھامس پائٹس مین نے کہا ہے کہ ’ڈیزائنز ڈرگس‘ اُسی طرح ہی خطرناک ہیں جیسا کہ روایتی غیر قانونی ادویات۔

پائٹس مین کے بقول، ’ لوگوں کو دماغی خلل کی بیماری لاحق ہوسکتی ہے۔ لوگ عارضہ ِقلب کا شکار ہو سکتے ہیں۔ لوگ شدید دماغی مسائل سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ اِن مادّوں کے استعمال کے باعث فالج گِر سکتا ہے‘۔

ادارے نے اپنی رپورٹ بدھ ہی کے روز جاری کی، جسے منشیات اور ڈرگس کے ناجائز کاروبار کے سالانہ عالمی دِن کے طور پر منایا جاتا ہے۔

پائٹس مین نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارے نے ’قبل از وقت انتباہ کا ایک نظام‘ وضع کیا ہے، جِس کا مقصد حکومتوں کو مطلع کرنا ہے کہ اُن کے ممالک میں نئی ڈزائنر ڈرگز بیچی جارہی ہیں۔ اُن کے بقول، اس کا ’مقصد یہ ہے کہ اس کے بارے میں تمام معلومات اور اطلاعات کا تبادلہ ہو۔ تاکہ نہ صرف یہ کہا جائے کہ یہ دوائی بِک رہی ہے، بلکہ ساتھ ہی اس بات کی بھی نشاندہی کی جائے کہ صحت پر اِس کے اثرات کیا ہوں گے۔ ہم نے اِس کے ساتھ کس قسم کے منسلک سماجی، معاشی مسائل کا مشاہدہ کیا ہے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ادویات کے گلی محلے کے نام، مثلاً ’اسپائیس‘، ’میو میو‘ اور ’باتھ سالٹس‘ ہیں، جو ایک نوجوان کو گمراہ کر سکتے ہیں کہ شاید یہ نقصان دہ چیزیں نہیں ہیں۔

عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر ’بھنگ‘ وہ غیرقانونی مادّہ ہے جس کا دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے۔
XS
SM
MD
LG