رسائی کے لنکس

’ڈرون طیاروں کے استعمال سے متعلق ابہام اور عدم شفافیت کے باعث ڈرون حملے ہر قسم کے احتساب سے بالاتر ہوگئے ہیں اورا ن سے متاثر افراد مناسب قانونی چارہ جوئی سے محروم کردیے گئے ہیں‘: اقوام متحدہ

اقوامِ متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ پاکستان اور یمن میں مسلح ڈرون طیاروں کے استعمال کی قانونی حیثیت واضح کرے۔

پیر کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارے کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نیوی پلے نے کہا کہ ڈرون طیاروں کے استعمال سے متعلق ابہام اور عدم شفافیت کے باعث ڈرون حملے ہر قسم کے احتساب سے بالاتر ہوگئے ہیں اور ان سے متاثر افراد مناسب قانونی چارہ جوئی سے محروم کردیے گئے ہیں۔

سلامتی کونسل کا یہ اجلاسِ عام جنگوں اور مسلح جھڑپوں میں عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات پر بحث کےلیے طلب کیا گیا تھا۔

اجلاس سے 'ویڈیو کانفرنس' کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے نیوی پلے کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستان، یمن اور غزہ میں انسدادِ دہشت گردی اور فوجی کاروائیوں کے نام پر کیے جانے والے ڈرون حملوں سے ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف وزریوں پر سخت تشویش ہے۔

عالمی ادارے کی عہدیدار نے کہا کہ وہ یہ حملے کرنے والی ریاستوں پر زور دیتی ہیں کہ وہ ان حملوں کی قانونی بنیادوں کی وضاحت کریں اور انہیں متعلقہ بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کے دائرے میں لائیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور یمن میں امریکہ 'القاعدہ' کے مبینہ شدت پسندوں کے خلاف کئی برسوں سے ڈرون حملے کر رہا ہے جب کہ اسرائیل کے بارے میں گمان کیا جاتا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں 'حماس' کے رہنماؤں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون طیارے استعمال کرتا رہا ہے۔

سلامتی کونسل کے اجلاسِ عام سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سفیر نے بھی ان حملوں کو فوری روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے اس موٴقف کا حامی ہے کہ ڈرون طیاروں کے استعمال کو بین الاقوامی قوانین کے تابع ہونا چاہیئے۔

اپنے خطاب میں پاکستانی سفیر مسعود خان کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈرون حملوں کو انسانی حقوق سے متعلق قوانین کی سنگین خلاف ورزی سمجھتا ہے اور انہیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی سطح پر ہونے والی کوششوں میں تیزی لائی جانی چاہیے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اپنے دورہ پاکستان کے دوران میں اقوامِ متحدہ کے سربراہ بان کی مون نے بھی ڈرون حملوں میں ہونے والے جانی نقصان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین کا پابند بنانےپر زور دیا تھا۔
XS
SM
MD
LG