رسائی کے لنکس

افغان افیون کی پیداوار میں دو تہائی اضافہ متوقع


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

اقوام متحدہ کی سروے رپورٹ کے مطابق اس وقت افغانستان میں 17 صوبوں میں پوست کاشت کی جا رہی ہے جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 14 تھی۔ ان میں وہ تین صوبے بھی شامل ہیں جنھیں پوست کی کاشت سے آزاد قرار دیا جا چکا تھا۔

افغانستان میں منشیات کی پیداوار کے خلاف مقامی اور بین الاقوام مہم میں تیزی کے باوجود اس سال افیون کی پیداوار میں دو تہائی اضافہ ہوگا کیونکہ 2010ء کے مقابلے میں اس مرتبہ پوست کی غیر قانونی فصل سات فیصد زیادہ رقبے پر کاشت کی گئی ہے۔

یہ انکشاف اقوام متحدہ اور افغانستان کی وزارت برائےانسداد منشیات کی مشترکہ جائزہ رپورٹ میں کیا گیا ہے جس کا اجرا منگل کو کابل میں کیا گیا۔

عالمی تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر یوری فیدرف نے اس موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ مقامی اور عالمی برادری کی طرف سے افغانستان میں منشیات کے خاتمے کے لیے مضبوط عزم کے مظاہرے کی ضرورت ہے۔ ’’افغان افیون سروے 2011ء ہمارے لیے پیغام ہے کہ ہم اس مسئلے سے نمٹنے کی کوششوں میں سُستی کےمتحمل نہیں ہو سکتے۔‘‘

رپورٹ میں افغانستان میں اس سال منشیات کی پیداوار میں اضافے کی بڑی وجوہات عدم تحفظ، اقتصادی مشکلات، گندم کی قیمت میں کمی اور افیون کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ بیان کی گئی ہیں جس نے زیادہ رقبے پر پوست کاشت کرنے میں افغان کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ گزشتہ سال تقریباً تین لاکھ ایکڑ رقبے پر پوست کاشت کی گئی تھی جبکہ 2011ء میں کاشت شدہ رقبہ تین لاکھ 23 ہزار ایکڑ سے زائد ہے۔

’’2010ء میں افغانستان میں پیدا ہونے والی افیون کی مقدار 3,600 میٹرک ٹن تھی لیکن اس سال یہ مقدار بڑھ کر 5,800 میٹرک ٹن ہو جائےگی جو ماضی میں اس ملک کا خاصا رہی ہے۔‘‘ رپورٹ کے مطابق تازہ اندازوں کی بنیاد پر افغانستان سے بین الاقوامی منڈی کو اسمگل کی جانے والی منشیات 2011ء میں ماضی کی طرح ایک بار پھر 90 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

اقوام متحدہ کے عہدے داروں نے اسے ایک تشویش ناک پیش رفت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ افغان اکیلے اس صورت حال کو کنٹرول نہیں کر سکتے اس لیے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری کو بھی اُن کی مدد کرنا ہوگی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک نمایاں حصہ افغانستان میں طالبان اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی تخریبی کارروائیوں کےلیے استعمال کیا جا رہا ہے اور عسکری تنظیموں کو منیشات سے ہونے والی آمدنی اس سال بڑھ کر 70 کروڑ ڈالر ہونے کی توقع ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ضروری ہے کہ امن وامان قائم کرنے میں مصروف بین الاقوامی افواج انسداد منشیات کی طرف بھی اتنی ہی توجہ دیں۔

افغان افیون کی پیداوار میں دو تہائی اضافہ متوقع

افغان افیون کی پیداوار میں دو تہائی اضافہ متوقع

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منشیات دنیا بھر میں ہر سال ہزاروں افراد کی موت کا باعث بنتی ہیں لیکن خود افغانستان میں بھی لاکھوں افراد اس لعنت میں متبلا ہیں اور اس تعداد میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ ’’ملک میں انجیکشن کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والوں میں ایچ آئی وی (ایڈز کی جان لیوا بیماری کا سبب بننے والا وائرس) کی وبا پھیلنے کا بھی خدشہ ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کی سروے رپورٹ کے مطابق اس وقت افغانستان میں 17 صوبوں میں پوست کاشت کی جا رہی ہے جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 14 تھی۔ ان میں وہ تین صوبے بھی شامل ہیں جنہیں پوست کی کاشت سے آزاد قرار دیا جا چکا تھا۔

پوست سے نکالے گئے رس سے افیون اور پھر اس میں کیمیائی اجزا شامل کر کے انتہائی نشہ آور ہیروئن بنائی جاتی ہے۔ سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں گزشتہ سال تقریباً اڑھائی ایکڑ یا ایک ہیکٹر زمین پر کاشت کی گئی پوست سے کسانوں کو 4,900 ڈالر وصول ہوئے تھے لیکن قیمتوں میں اضافے کے بعد اس مرتبہ ایک ہیکڑ کی فصل سے انھوں نے 10,700 ڈالر کمائے۔

افغانستان افیون کی پیداوار کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور یہاں تیار کی گئی ہروئن مغربی ملکوں بشول امریکہ کو اسمگل کی جاتی ہے۔ افغان منشیات کا ایک بڑا حصہ پاکستان اور ایران کے راستے اسمگل کیا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG