رسائی کے لنکس

’برقی کوڑا کباڑ‘: 2017ء تک حجم 65.4 میٹرک ٹن سالانہ ہوجائے گا


اقوام متحدہ کی ایک مطالعاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’اِی ویسٹ‘ کی تشریح کسی ایسی شے کے طور پرکی جاتی ہے، جِس میں’ بیٹری‘ اور ‘الیکٹریکل کورڈ‘ استعمال کی جائے، اورجِس میں اکثر ایسا مواد شامل ہوتا ہے جو انسانوں اور ماحولیات کے لیے نقصاندہ ہوتا ہے

اقوام متحدہ کی پیش گوئی کے مطابق،’برقی باقیات‘ جنھیں دنیا بھر میں فرسودہ سمجھ کر ضائع کر دیا جاتا ہے، اُس کا حجم 2017ء تک بڑھ کر سالانہ 33 فی صد ہوجائے گا۔

یہ بات اقوام متحدہ کی طرف سے ’سالونگ دِی اِی-ویسٹ پرابلم‘ نامی پراجیکٹ کی طرف سے اتوار کو جاری ہونے والی مطالعاتی رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’برقی اشیاٴ، جنھیں دنیا بھر میں ناکارہ سمجھ کر ضائع کردیا جاتا ہے، کی 2017ء تک سالانہ حجم 65.4میٹرک ٹن تک پہنچ جائے گا، جِس کے زیادہ تر حصے کے ذمے دار ترقی یافتہ ممالک ہوں گے۔

اقوام متحدہ کی تنظیموں کے اتحاد، اور اُس کے ذیلی گروپ اور صنعت کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال برقی اشیاٴ کی سب سے بڑی مقدار چین میں پیدا ہوئی، جب کہ امریکہ دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ اعداد و شمار کو اکٹھا کیے جانے سے پتا چلتا ہے کہ ترقی پذیر اور اُبھرتے ہوئے ممالک ’الیکٹریکل ویسٹ‘ کی اِتنی ہی مقدار پیدا کرتے ہیں جتنی کہ ترقی یافتہ ممالک۔

’اِی ویسٹ‘ کی تشریح کسی ایسی شے کے طور پر کی جاتی ہے، جِس میں’بیٹری‘ اور ‘الیکٹریکل کورڈ‘ استعمال کی جائے، اور جِس میں اکثر ایسا مواد شامل ہوتا ہے جو انسانوں اور ماحولیات کے لیے نقصاندہ ہوتا ہے۔

مطالعاتی رپورٹ میں ’اِی ویسٹ‘ کی بہتر نگرانی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ باقاعدہ سے نتائج کے بارے میں اطلاع دینے میں ناکامی کے باعث، بجلی کے کوڑے کباڑ کو ٹھکانے لگانے سے متعلق مؤثر قوائد کو تیار کرنے میں دقت پیش آتی ہے۔
XS
SM
MD
LG