رسائی کے لنکس

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی عہدہ چھوڑ رہے ہیں


جمال بنعمر

جمال بنعمر

اقوام متحدہ کے سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے امن مذاکرات کے لیے بنعمر کی کوششوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی جمال بنعمر اپنے عہدے سے علیحدہ ہو رہے ہیں جب کہ خطے کے اس پسماندہ ملک میں سیاسی بحران اور تشدد زور پکڑتا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے ایک ترجمان نے کہا کہ جمال بنعمر نے کسی اور اسائنمنٹ پر جانے کی دلچسپی ظاہر کی ہے۔

"ان کی جگہ کسی دوسرے ایلچی کے نام کا اعلان مناسب وقت میں کر دیا جائے گا۔ اس وقت تک اور اس کے بعد بھی اقوام متحدہ (یمن میں) سیاسی عمل کو واپس راہ پر لانے اور امن کی بحالی کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔"

اقوام متحدہ کے سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے امن مذاکرات کے لیے بنعمر کی کوششوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں اور صدر عبد ربو منصور ہادی کی وفادار فورسز کے درمیان لڑائیاں جاری ہیں جب کہ سعودی عرب کی زیر قیادت اتحادی افواج حوثی باغیوں پر فضائی حملے بھی کرتی آ رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے رواں ہفتے ہی یمن میں تمام فریقین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ تمام گروپوں کی شمولیت سے مذاکرات "بحال کریں اور ان میں تیزی لائیں۔"

دریں اثناء انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' نے سعودی زیر قیادت اتحاد میں شامل ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ دو ہفتے قبل یمن کے شہر حدیدہ میں دودھ کی ایک فیکٹری پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کریں۔ اس حملے میں 31 شہری مارے گئے تھے۔

ہیومن راٹس واچ کا کہنا تھا کہ یہ فضائی کارروائیاں حکومت کے حامی اتحاد نے "شاید بلاامتیاز اور غیرمتوازن طور پر" کیں، اور شاید حوثی باغیوں نے اس مقام کے قریب واقعے فضائی اڈے پر قبضہ کر کے شہریوں کی زندگی کو خطرے مں ڈالا۔

XS
SM
MD
LG