رسائی کے لنکس

فیفا حجاب پر سے پابندی اٹھائے: اقوامِ متحدہ کا مطالبہ


فیفا کے صدر، سیپ بلیٹر
.
فیفا کے صدر، سیپ بلیٹر .

ایتھلیٹکس، رگبی، تلوار بازی، نیٹ بال اور تائی کوانڈو سمیت کئی کھیلوں کی منتظم تنظیمیں خواتین کھلاڑیوں کو حجاب کے ساتھ مقابلوں میں حصہ لینے کی اجازت دے چکی ہیں

اقوامِ متحدہ نے فٹ بال کی منتظم بین الاقوامی تنظیم 'فیفا' پر زور دیا ہے کہ وہ خواتین کھلاڑیوں کے اسکارف پہن کر فٹ بال کھیلنے پر عائد پابندی ختم کرے۔

یہ مطالبہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے کھیلوں کے مشیرول فرائیڈ لیمکے نے فیفا کے صدر سیپ بلاٹر کو تحریر کیے گئے اپنے ایک خط میں کیا ہے۔

خط میں مسٹر لیمکے نے موقف اختیار کیا ہے کہ اسکارف پر پابندی سے متعلق فیفا کے قانون میں تبدیلی ایک "مثبت مثال" ہوگی جس سے ایک ایسی رکاوٹ دور ہوجائے گی جو خواتین اور لڑکیوں کے فٹ بال کھیلنے کی راہ میں حائل ہوسکتی ہے ۔

خط میں اقوامِ متحدہ کے مشیر نے لکھا ہے کہ پابندی کے خاتمے سے خواتین کھلاڑی دنیا پر یہ واضح کرسکیں گی کہ اسکارف زندگی اور کھیل میں آگے بڑھنے میں رکاوٹ نہیں اور اس سے صنفی امتیاز کے رویوں میں تبدیلی لانے میں مدد ملے گی۔

مسٹر لیمکے نے یہ خط ایک ایسے موقع پر تحریر کیا ہے جب 'فیفا' کے قانون ساز ادارہ 'انٹرنیشنل فٹ بال ایسوسی ایشن بورڈ (آئی ایف اے بی)' کا سالانہ اجلاس ہفتے کو انگلینڈ میں منعقد ہورہا ہے۔

یاد رہے کہ 'آئی ایف اے بی' نے ہی مارچ 2007ء میں خواتین پر فٹ بال کے عالمی مقابلوں میں اسکارف پہن کے حصہ لینے پر پابندی عائد کردی تھی ۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندی کھلاڑیوں کی حفاظت کے نقطہ نظر سے لگائی گئی ہے اور اس میں مذہبی تعصب کو دخل نہیں۔

پابندی کے بعد سے اسکارف کے استعمال کے محفوظ ہونے کے بارے میں تفصیلی جانچ پڑتال کی گئی ہے جس سے واقف افراد کا موقف ہے کہ اسکارف کے باعث کسی کھلاڑی کو آج تک کوئی گزند نہیں پہنچی ہے۔

ایشین فٹ بال کنفیڈریشن پہلے ہی اسکارف کے استعمال کی اجازت دے چکی ہے اور تنظیم کے چین سے تعلق رکھنے والے قائم مقام صدر زینگ جیلونگ سمیت 'کنفیڈریشن آف افریقن فٹ بال' کے صدر عیسیٰ ہوتو بھی پابندی کے خاتمے کی حمایت کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ 'آئی ایف اے بی' کا بورڈ آٹھ اراکین پر مشتمل ہے جس میں سے چار فیفا کے نمائندے جب کہ دیگر چار برطانیہ، اسکاٹ لینڈ، شمالی آئرلینڈ اور ویلز کی فٹ بال ایسوسی ایشنوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

فٹ بال کے اس پالیسی ساز ادارے کے قوانین کی تبدیلی کے لیے 75 فی صد اراکین کی حمایت درکار ہوتی ہے جس کا مطلب ہے کہ حجاب پر عائد پابندی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ادارہ کے آٹھ میں سے چھ ارکان تجویز کی حمایت کریں۔

'فیفا' کی ایگزیکٹو کمیٹی کے نوجوان رکن اور اردن کے شہزادے پرنس علی حسین 'آئی ایف اے بی' کے ہفتے کو منعقدہ اجلاس میں شریک ہوں گے اور حجاب پہ عائد پابندی اٹھانے پر زور دیں گے۔

اجلاس میں شرکت سے قبل جمعرات کو لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پرنس حسین نے حجاب کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مذہبی نہیں بلکہ ثقافتی معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین میں فٹ بال کا کھیل انتہائی مقبول ہے اور موجودہ صورتِ حال کے ذریعے دنیا بھر کی خواتین کو یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ انہیں ایک ایسی پابندی کے باعث کھیل میں شرکت کی اجازت نہیں دی جاسکتی جس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو فٹ بال میں لمبی آستینوں اور ٹانگیں چھپانے کی اجازت ہے۔ انہوں نے حجاب پر عائد پابندی کو تعصب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ کو اب حل کرنا ہی ہوگا۔

اردنی شہزادے کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ سے لے کر فٹ بال کی علاقائی فیڈریشنز تک پابندی کے خاتمے کے حق میں ہیں اور اب اسے برقرار رکھنے کا کوئی جواز بظاہر نظر نہیں آتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر 'آئی ایف اے بی' نے پابندی کے خاتمے کی منظوری نہ دی تو اس سے لاکھوں خواتین کو مایوسی ہوگی اور یہ دیکھنا ہوگا کہ آخر اس کھیل میں ترجیحات کیا ہیں۔

واضح رہے کہ ایتھلیٹکس، رگبی، تلوار بازی، نیٹ بال اور تائی کوانڈو سمیت کئی کھیلوں کی منتظم تنظیمیں خواتین کھلاڑیوں کو حجاب کے ساتھ مقابلوں میں حصہ لینے کی اجازت دے چکی ہیں۔

XS
SM
MD
LG