رسائی کے لنکس

اقوام متحدہ کے ادارے سنٹرل ایمرجنسی رسپورنس فنڈ کی طرف سے 92 کروڑ روپے بے گھر افراد کی اس سال کی ضروریات پورا کرنے میں مدد کے لیے ہیں

اقوام متحدہ نے پاکستان کے شمال مغربی حصے میں سلامتی کے خدشات کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کی امداد کے لیے 92 کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

عالمی اداے کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق سنٹرل ایمرجنسی رسپونس فنڈ میں سے یہ رقم خیبرپختونخواہ اور قبائلی علاقوں میں بے گھر ہونے والے دس لاکھ سے زائد افراد کی فوری اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اہم ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے پاکستان میں ریذڈینٹ کوآرڈینیٹر ٹیمو پکالا کا کہنا تھا کہ یہ رقم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والی تنظیموں کی حکومتی کوششوں میں معاونت کو یقینی بناتے ہوئے انسانی زندگیاں بچانے کے لیے استعمال ہو گی۔

بیان کے مطابق اس امداد سے تقریباً نو لاکھ اسی ہزار افراد کو ضروری خوراک، پانچ لاکھ افراد کے لیے بنیادی طبی سہولت، دو لاکھ لوگوں کے لیے صاف پانی، نکاسی آب اور بچوں سمیت 65 ہزار افراد کے لیے غذا کی فراہمی پر صرف ہو گی۔

علاوہ ازیں اس سے 14000 افراد کو ہنگامی طور پر عارضی پناہ گاہ اور دیگر ضروری اشیاء مہیا کی جا سکیں گی۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق خیبر پختونخواہ اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں اس سال بنیادی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 28 کروڑ ڈالر سے زائد کی رقم درکار ہو گی، جس میں سے تاحال دس کروڑ ڈالر کی رقم ہی حاصل ہو سکی ہے۔

مسٹر پکالا کا کہنا تھا کہ "یہ ضروری ہے کہ اپنے گھروں کو لوٹنے والے ان افراد کو بنیادی ضروریات کی فراہمی ہوتی رہے۔"

پاکستان کے قبائلی علاقوں اور شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کے دوران حالیہ برسوں میں ہزاروں خاندان اپنا گھر بار چھوڑ کر خیبرپختونخواہ کے مختلف اضلاع میں قائم کیمپوں اور رہائشی علاقوں میں منتقل ہوچکے ہیں۔

اسی دوران 2010 اور 2011ء میں خیبر پختونخواہ میں آنے والے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے بھی ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے تھے جن میں سے اکثر اب بھی عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

متعدد علاقوں میں شدت پسندوں کا صفایا کیے جانے کے بعد بہت سے لوگ اپنے گھروں کو بھی لوٹ چکے ہیں جنہیں اس واپسی کے لیے زاد راہ کے علاوہ کچھ عرصے کے لیے ضروریات زندگی بھی فراہم کی جا چکی ہیں۔

پاکستان سنٹرل ایمرجنسی رسپونس فنڈ سے مستفید ہونے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔

اس ادارے کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک، غیر سرکاری تنظیمیں، مقامی حکومتیں، نجی شعبہ اور مخیر حضرات رضا کارانہ طور پر رقوم مہیا کرتے ہیں۔ 2006ء سے یہ فنڈ دنیا میں تقریباً 88 ممالک اور خطوں کو 3.4 ارب ڈالر کی امداد فراہم کر چکا ہے۔
XS
SM
MD
LG