رسائی کے لنکس

سلامتی کونسل کا حملے کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

  • مارگریٹ بشیر

سلامتی کونسل نے احتجاج کرنے والوں کی فوری اور غیرمشروط رہائی پر زور دیا جن کاتعلق 32ملکوں سے ہے

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے غزہ امدا د لے جانے والے بحری بیڑے پراسرائیل کے حملے کی فوری، غیر جانبدار اورشفاف تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔ پیر کو 15 رکنی سلامتی کونسل نے لبنان اور ترکی کی درخواست پر پیر کی شام ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا جو منگل کی صبح اختتام پذیر ہوا ۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں ارکان نے تشدد کی شدید مذمت کی اور احتجاج کرنے والوں کی فوری اور غیرمشروط رہائی پر بھی زور دیا جن کا تعلق 32ملکوں سے ہے۔

ترکی کے وزیرِ خارجہ احمد داؤد اوگلو جنوبی امریکہ سے اجلاس میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ اُنھوں نے اسرائیل پر نکتہ چینی کرتے ہوئے اسرائیلی دفاعی افواج کی کارروائی کو ڈکیتی اور قزاقی کے مترادف قرار دیا۔

اُن کے الفاظ میں، یہ ایک ملک کی طرف سے کیا جانے والا قتل ہے۔ اِس کا کوئی جواز نہیں۔ کوئی ملک جو اِس راستے کا انتخاب کرتا ہے وہ عالمی برادری کے قابلِ احترام رُکن کی حیثیت کوا دیتا ہے۔

داؤد اوگلو نے کہا کہ اسرائیل کی یہ وضاحت کہ اُس کی فوج نے اپنے دفاع میں کارروائی کی ہے اُس کے عمل کا جواز نہیں۔

اُنھوں نے اسرائیل کی طرف سے طاقت کے استعمال کو نامناسب اور غیر موزوں قرار دیا، اور کہا کہ جہاز پر احتجاجیوں کی کارروائی اسرائیل کو بین الاقوامی قانون کے تحت اُس کے فرائض سے ماورا نہیں کرتی۔

امدادی جہازوں میں فلسطینیوں کی حمایت میں تقریباً 700کارکن سوار تھے جب کہ اُن میں 10ہزار ٹن اشیائے ضرورت بھی تھیں۔ یہ جہاز اتوار کو غزہ کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ اُنھوں نے اسرائیلی بحریہ کی طرف سے فلسطینی علاقے کی طرف سمندر کے راستے سفر نہ کرنے کے متعدد انتباہ نظر انداز کیے اور اُن ہدایات پر بھی عمل نہ کیا کہ وہ اپنا سامان اسرائیلی بندرگاہ اشوڈ پر پہنچا دیں جہاں حکام اِس کا معائنہ کرنے کے بعد اِسے غزہ پہنچا دیں گے۔

چھ جہازوں پر مشتمل بیڑے کی قیادت ترک جہاز ‘ماوی مرمارا’ نے کی جو اسرائیل کے قریب بین الاقوامی سمندر میں تھا جب اسرائیل نے اِسے روکا اور ہیلی کاپٹر سے اِس پر چلے گئے۔


کونسل کے تقریباً تمام ارکان نے اسرائیلی ناکہ بندی کو فوری طور پر اُٹھانے کے لیے زور دیا جِس کی وجہ سے غزہ کے 15لاکھ افراد تک بیشتر اشیا ئے صرف نہیں پہنچ پاتیں۔ 2007ء میں حماس کے علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد یہ ناکہ بندی کی گئی۔

اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے نائب سفارت کار ڈینیل کارمون نے غزہ میں صورتِ حال کو رد کرتے ہوئے کونسل کو بتایا کہ وہاں کوئی انسانی بحران نہیں ہے۔ جہاز پر پیش آنے والے واقعے کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ اسرائیل کو جانی نقصان پر افسوس ہے ، لیکن اُنھوں نے کارکنوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ امدادی اشیا پہنچانے کے لیے نہیں گئے تھے بلکہ ایک سیاسی رنگ دینا چاہتے تھے اور اُنھوں نے اسرائیلی فوجیوں پر چھریوں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا۔

اُن کے بقول، جواب واضح ہے۔ وہ امن کے عملبردار نہیں ہیں۔ وہ خیرسگالی کے پیامبر نہیں تھے۔ اُنھوں نے فلاحی امداد پہنچانے کے بہانے نفرت کا پیغام دیا اور تشدد کے مرتکب ہوئے۔

اسرائیل کے حلیف امریکہ نے کہا کہ اُسے اِس تشدد پر بے حد پریشانی ہے اور جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے لیکن اقوامِ متحدہ میں نائب سفارت کار الے جیندرو ولف بھی مظاہرین پر نکتہ چینی کرتے معلوم ہوئے۔ اُنھوں نے کہا کہ غزہ میں امداد پہنچانے کے اور بھی طریقے تھے۔ حالات کے تحت اور براہِ راست سمندر سے امداد کی فراہمی مناسب اور ذمہ دارانہ فعل نہیں تھا۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے افریقہ کے دورے میں اِس تشدد پر مذمت کی اور کہا کہ تمام واقعات کیونکر پیش آئے اِس کی مکمل چھان بین پر زور دیا، تاکہ یقین کیا جاسکے کہ اصل واقعات کس طرح سے پیش آئے۔

XS
SM
MD
LG