رسائی کے لنکس

یمن میں انسانی بحران پر اقوام متحدہ کی تشویش


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے سربراہ اوبرائن نے جنگ کے دوران فریقین کی جانب سے انسانی زندگی کو اہمیت نہ دینے کی مذمت کی۔

اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے سربراہ نے یمن میں لوگوں کی تکالیف کو ’’ناقابل فہم‘‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ جلد ختم نہ کی گئی تو ’’کچھ بھی باقی نہیں بچے گا‘‘ جس پر لڑائی کی جا سکے۔

سٹیفن او برائن نے سلامتی کونسل کو اپنے حال ہی میں کیے گئے یمن کے دورے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ انہوں نے وہاں دیکھا اس سے انہیں صدمہ پہنچا ہے۔

’’پانچ میں سے چار یمنیوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے اور پندرہ لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ایک ہزار سے زائد بچے ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں اور جنگجوؤں کے طور پر بھرتی ہونے والے نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘‘

اوبرائن نے جنگ کے دوران فریقین کی جانب سے انسانی زندگی کو اہمیت نہ دینے کی مذمت کی۔ انہوں نے ملک کے اہم ساحلی شہروں کی تباہی کی بھی مذمت کی جو ان کے بقول بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کے لیے اہم راستہ ہیں۔

’’ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کو کھلا رہنا چاہیئے اور انسانی امداد اور تجارتی مقاصد کے لیے بغیر پابندی کے ان کے استعمال کی اجازت ہونی چاہیئے۔‘‘

سعودی عرب کی قیادت میں مارچ سے جاری فضائی حملوں میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو ملک کے دارالحکومت صنعاء اور بیشتر شمالی حصے پر قابض ہیں۔ سعودی عرب کی طرف سے حوثی مخالف جنگجوؤں کی معاونت سے ان کے خلاف کچھ کامیابیاں ملی ہیں۔

مگر اوبرائن نے کہا ہے کہ جنگ کے نتائج عام شہریوں کو بھگتنے پڑ رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG