رسائی کے لنکس

انسانوں کی تجارت کا شکار چند لوگوں کی آپ بیتی

  • لیزا سکیلئین

انسانی تجارت کا شکار ہونے والی اکثر لڑکیوں کو جسم فروشی کے مکروہ دھندے میں ڈال دیا جاتا ہے

انسانی تجارت کا شکار ہونے والی اکثر لڑکیوں کو جسم فروشی کے مکروہ دھندے میں ڈال دیا جاتا ہے

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ انسانوں کی تجارت جدید دور میں غلامی کی ایک شکل ہے اور یہ لعنت دنیا کے ہر علاقے میں موجود ہے ۔ جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے عہدے داروں کاکہنا ہے کہ محنت مشقت اور جنسی استحصال کے لیے مردوں ، عورتوں اور بچوں کی اسمگلنگ اور ان کی خرید و فروخت، مجرموں کے منظم گروہوں کے لیے پیسہ بنانے کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا ہے ۔

انسانوں کی تجارت جتنی زیادہ عام ہے اتنی ہی اس کے بارے میں معلومات کم ہیں۔یہ گھناؤنا کاروبار اتنا چوری چھپے کیا جاتا ہے کہ کوئی نہیں جانتا کتنے لوگ اس کا شکار ہوتےہیں۔ لیکن انٹرنیشنل لیبر آرگنائیزیشن نے اندازہ لگایا ہے کہ سات لاکھ سے 40 لاکھ تک انسان ہر سال بین الاقوامی سرحدوں کے آر پار پہنچائے جاتےہیں۔

انسانوں کی اسمگلنگ اور تجارت کرنے والوں کے لیے عموماً کوئی خطرہ نہیں ہوتا کیوں کہ مجرم وہ لوگ سمجھے جاتے ہیں جو اس ظلم کا شکار ہوتے ہیں۔اس زیادتی کے ازالے کے لیے، جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے کئی ایسے لوگوں کو جو اسمگلروں اور بردہ و فروشوں کے چنگل سے بچ نکلے تھے، مدعو کیا اور ان سے کہا کہ ان پر جو کچھ بیتی ہے اسے بیان کریں تا کہ ان بے زبانوں کو زبان ملے جو بے بسی کی زندگی گذار رہے ہیں۔

ہر مظلوم کے تجربات اور دُکھ الگ الگ ہیں۔ لیکن ان سب کی داستانوں میں چند باتیں مشترک ہیں۔یہ لوگ اکثر ان لوگوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں جن پر انہیں بھروسہ ہوتا ہے، مثلاً والدین، ہمسایے، دوست اور رشتے دار۔یہ سب لوگ بہتر زندگی کی آس میں اپنا گھر بار چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے چند لوگوں کی آوازیں سنیئے ۔

’’میرا نام کیکا کرپا ہے ۔ میں نیو یارک سے آئی ہوں۔ میں یہ سوچ کر امریکہ گئی تھی کہ میں آیا کے طور پر کام کروں گی۔ لیکن میں طوائف بن گئی، اپنی مرضی سے نہیں، بلکہ کسی اور نے مجھے اس راستے پر ڈال دیا۔‘‘

وہ کوئی اس کا بوائے فرینڈ تھا۔ اس نےکیکا کو 1992 میں وینزویلا سے نیو یارک چلے آنے پر آمادہ کر لیا۔ وہ اپنے بوائے فرینڈ کے کزن اور ایک دوست کے ساتھ رہنے لگی۔ وہ اسے مارتے پیٹتے اور اس کی آبروریزی کرتے تھے ۔ انھوں نے اسے مجبور کیا کہ وہ اپنے بوائے فرینڈ کا قرضہ اتارنے کے لیے جسم فروشی شروع کر دے۔تین سال تک وہ یہی دھندا کرتی رہی۔ آخر ایک گاہک نے اسے فرار ہونے میں مدد دی لیکن پھر اسی شخص نے اسے اپنا غلام بنا لیا۔ وہ دس برس تک اس کے ساتھ رہی اور دو بیٹیوں کی ماں بن گئی۔

کیکاکہتی ہے’’میں اسے چھوڑ نہیں سکتی تھی کیوں کہ جب کبھی میں نے کوشش کی، اس نے کہا کہ وہ پولیس کو اطلاع کر دے گا اور مجھے امریکہ سے نکال دیا جائےگا۔ میں اپنی بچیوں کو کًبھی نہ دیکھ سکوں گی۔‘‘

آخرِ کار کیکا بھاگ نکلی۔ اس نے عدالت سے اپنی حفاظت کے حکم کی درخواست کی لیکن ہوا یہ کہ اسکی بیٹیوں کو اس سے چھین لیا گیا اور اس پر جرائم پیشہ ہونے کا الزام لگایا گیا۔ آخر وہ ایک تنظیم سینکچری فار فیمیلیز کی مدد سے آزاد ہو گئی اور جسم فروشی کرانے والے بدمعاشوں سے اس کی جان چھوٹ گئی۔

چارلوٹ آوینو کی کہانی اس سے مختلف ہے لیکن وہ کچھ کم دردناک نہیں۔ وہ 14 برس کی تھی جب یوگنڈا کی باغی لارڈز رزسٹینس آرمی نے 1996 میں اس کے بورڈنگ اسکول سے اسے اغوا کر لیا۔ وہ بتاتی ہے’’

اسکول کیمپس سے نکال کر وہ ہمیں نہ معلوم کہاں لے گئے۔ ہم بوجھ اٹھائے چلتے رہتے تھے۔ وہ ہمیں جنوبی سوڈان لے گئے اور اس تمام عرصے میں آبروریزی کرتے رہے، ہم کھیتوں میں کام کرتے، سامان ڈھوتے، ہم تو بس غلام تھے۔ دن رات ہماری پٹائی ہوتی۔ اگر بھاگنے کی کوشش کرتے تو یقیناً ہمیں ہلاک کر دیا جاتا۔‘‘

چارلوٹ کہتی ہے کہ آٹھ برس تک وہ جنسی غلامی کا شکار ہوتی رہی۔ اس کی عمر 22 سال ہو چکی تھی اور وہ دو بچوں کی ماں بن گئی تھی ۔ آخر کار وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ وہ کہتی ہے کہ ان ہولناک برسوں کی یادیں اب بھی ڈراؤنے خواب کی طرح میرے ذہن میں محفوظ ہیں۔

چارلوٹ کے برعکس، کمار رام جلی نے بتایا کہ اسے محنت مشقت کے لیے لایا گیا تھا۔ اردن کی ایک کمپنی نے اسے 2004 میں نیپال سے امریکہ میں کام کرنے کے لیے بھرتی کیا تھا۔

کمار کا کہناتھا کہ اسے جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے ۔ امریکہ کے بجائے اسے عراق بھیج دیا گیا جہاں اسے ، اس کی مرضی کے خلاف ایک امریکی فوجی اڈے پر کام کرنا پڑا۔ اس کا پاسپورٹ ضبط کر لیا گیا اور چار سال تک وہ کہیں نہیں جا سکا۔

انسانوں کی تجارت کا شکار چند لوگوں کی آپ بیتی

انسانوں کی تجارت کا شکار چند لوگوں کی آپ بیتی

جانا کوہٹ بوسنیا میں پیدا ہوئی تھیں۔ اب وہ انسانوں کی تجارت کے خلاف انسانی حقوق کے لیے سرگرم ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان پر کیا بیتی۔ 2004 میں جب وہ کروشیا میں رہ رہی تھیں، انہیں جنسی استحصال کے لیے ہمسایہ ملک سولوینیا میں اسمگل کر دیا گیا۔ وہ کہتی ہیں کہ انھیں ایک عورت نے جو ان کی دوست تھی، دھوکے سے پھانس لیا۔ بعد میں انہیں اغوا کیا گیا، ان کی آبروریزی کی گئی اور انہیں جسم فروشی پر مجبور کیا گیا۔ بالآخر وہ 2005 میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں۔ و ہ کہتی ہیں کہ انھوں نے اپنی زندگی اس مقصد کے لیے وقف کر دی ہے کہ دوسری عورتوں کا یہ حشر نہ ہو۔

XS
SM
MD
LG