رسائی کے لنکس

متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے فوری امداد فراہم کرنے کی اپیل


متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے فوری امداد فراہم کرنے کی اپیل

متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے فوری امداد فراہم کرنے کی اپیل

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں اور فوجی آپریشن کے باعث بے دخل ہونے والے ہزاروں افراداور متاثرہ علاقوں میں رہنے والوں کی بحالی کے لیے اگر بین الاقوامی برادری نے فوری طور پر امداد فراہم نہ کی تومتاثرہ افراد کے لیے جاری عالمی ادارے کی امدادی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔

پیر کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار مارٹن مگوانجانے بتایا کہ متاثرہ علاقوں سے بے دخل ہونے والے 13 لاکھ افرا داب بھی کیمپوں اور اپنے عزیزواقارب کے ہاں پنا ہ لینے پر مجبور ہیں ۔ اُنھوں نے بتایا کہ رواں سال فروری کے پہلے ہفتے میں دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں اور کیمپوں میں بسنے والے بے گھر افراد کی امداد کے لیے 53 کروڑ 70 لاکھ ڈالر سے زائد امداد کی اپیل کی گئی تھی جس میں سے صرف 20 فیصد امدا د حاصل ہو سکی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر فوری طور پر امداد فراہم نہ کی گئی تو خوراک، صحت ، پینے کے صاف پانی اور تعلیم کے منصوبے متاثرہ ہوں گے ۔ مارٹن مگوانجانے کہا کہ ا ن حقائق سے پاکستانی حکام بھی آگا ہ ہیں۔

مارٹن مگوانجا

مارٹن مگوانجا

اقوام متحدہ کے عہدیداروں نے یہ بھی بتایا کہ قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں عسکریت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے باعث وہاں سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اور حالیہ ہفتوں میں اس علاقے سے لگ بھگ 50 ہزار افراد اپنا گھر چھوڑکر محفوظ علاقوں میں جانے پر مجبور ہوئے۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس علاقے سے اب بھی نقل مکانی جاری ہے۔

عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ اگر مزید امداد نہ ملی تو اورکزئی سمیت دیگر علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے انتظامات نہیں ہو سکیں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں اقوا م متحدہ کے عہدیداروں نے بتایا کہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے فراہم کی جانے والی امداد میں کمی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہیٹی میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے باعث امدادی اداروں نے اپنے وسائل اُس ملک کے متاثرہ افراد کے بحالی کے لیے فراہم کرنا شروع کردیے۔

XS
SM
MD
LG