رسائی کے لنکس

بھارتی فوج کے خصوصی اختیارات ختم کیے جائیں: نمائندہ اقوام متحدہ

  • سہیل انجم

’انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین کی موجودگی اور آئینی گارنٹی کے باوجود بھارت میں عدالتی کارروائی کے بغیر ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے‘

اقوام متحدہ نے بھارت سے اپیل کی ہے کہ وہ فوج کو خصوصی اختیارات فراہم کرنے والے قانون کو کالعدم کردے۔

ایسے وقت جب مسلح افواج کو شورش زدہ علاقوں میں خصوصی اختیارات تفویض کرنے والے قانون ’آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ‘ کی واپسی پرزوردیا جارہا ہے، اقوام متحدہ نے بھارت سے اپیل کی ہے کہ وہ اِس متنازع قانون کو کالعدم کردے اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے ایک معتبر جانچ کمیشن قائم کرے۔

بھارت میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات کے بارے میں حقائق کا پتا لگانے کے لیے گجرات، کرالہ، آسام، مغربی بینگال اور بھارتی زیر انتظام کشمیر کے 12روزہ دورے کے بعد اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے، کرسٹوف ہیئنس نے نئی دہلی میں میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین کی موجودگی اور آئینی گارنٹی کے باوجود بھارت میں عدالتی کارروائی کے بغیر ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے، جوبات شدید تشویش کا باعث ہے۔

یہ قانون ریاست کے غیر معمولی اختیارات کی علامت ہے اور جمہوریت میں اِس کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ کشمیر کے دورے میں جِن لوگوں سے بات ہوئی اُنھوں نےقانون کو ’نفرت انگیز اور وحشی‘ قرار دیا۔ اقوام متحدہ کے متعدد اداروں نے اِسے بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ یہ قانون بعض ریاستوں میں 1958ء سے اور کشمیر میں کئی برسوں سےنافذ ہے۔ وزیرِ اعلیٰ عمر عبد اللہ نے بھی اِس کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے، جس پر مرکزی وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اِسے کالعدم کرنے کے معاملے پر حکومت کے اندر اتفاقِ رائے قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ فوج اِس قانون کی واپسی کے خلاف ہے اور اُس نے وزاررتِ دفاع سے کہا ہے کہ اِس کے خاتمے کی صورت میں دہشت گردی اور شورش پسندی سے لڑنے کی اُس کی اہلیت کمزور پڑ جائے گی۔

یہ ایکٹ فوجیوں کو اُن کے خلاف قانونی کارروائی سے استثنیٰ فراہم کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG