رسائی کے لنکس

اتوار کو پہلے روز حکام کے مطابق کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والی تنصیبات کو ناکارہ بنانے سمیت دیگر اقدامات پر کام شروع ہوا۔

حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی معائنہ کاروں نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کا آغاز کردیا ہے۔

اتوار کو پہلے روز حکام کے مطابق کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والی تنصیبات کو ناکارہ بنانے سمیت دیگر اقدامات پر کام شروع ہوا۔

شام کے صدر بشار الاسد نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وہ اس کارروائی میں تعاون کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ شام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے اس کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کی قرارداد منظور کیے جانے سے کئی ہفتے قبل ہی ان ہتھیاروں پر پابندی کے بین الاقوامی میثاق میں شامل ہوچکا تھا۔

معائنہ کاروں کو اقوام متحدہ نے یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ تنصیبات کے حصے بخرے کرتے ہوئے بالآخر 2014ء کے وسف تک شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کا عمل مکمل کریں۔

شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب اگست میں دارالحکومت دمشق کے نواح میں ہونے والے ایک حملے میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی اطلاعات سامنے آئیں۔

اس حملے میں بچوں سمیت سینکڑوں افراد ہلاک ہوگئے تھے اور امریکہ نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی پاداش میں شام کے خلاف یک طرفہ فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دے رکھی تھی۔
XS
SM
MD
LG