رسائی کے لنکس

لیبیا میں قتل عام کی اطلاعات


لیبیا میں قتل عام کی اطلاعات

لیبیا میں قتل عام کی اطلاعات

دریں اثنا لیبیا میں جاری حکومت مخالف مظاہروں اور تشدد کے واقعات کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ تیونس کے جنوب مشرقی سرحدی علاقے راس ایجیدار (RAS EIJEDIR) میں داخل ہو رہے ہیں جہاں مقامی شہریوں کی طرف سے ان کے لیے خوراک اور ذرائع آمدورفت کے انتظامات کیے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمشنر ناوی پیلے نے کہا ہے کہ لیبیا میں قتل عام کی اطلاعات ہیں اور بین الاقوامی برادری کو مظاہرین کے خلاف تشدد رکوانے کے لیے آگے بڑھنا چاہیئے۔

ناوی پیلے نے یہ بیان جمعہ کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق کونسل کے ہنگامی اجلاس کے موقع پر دیا۔

اُنھوں نے لیبیا کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہزاروں افراد کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات کی آزادنہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔

کسی رکن ملک میں صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے یو این ہیومن رائٹس کونسل کا یہ پہلا ہنگامی اجلاس تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون بھی جمعہ کو عالمی تنظیم کی سکیورٹی کونسل کے اجلاس سے خطاب کریں گے جس میں لیبیا کی صورت حال زیر بحث آئے گی۔
فرانسیسی وزیر خارجہ مشیل ایلیوٹ میری نے بتایا ہے کہ فرانس اور برطانیہ مشترکہ طور پر لیبیا کے خلاف ہتھیاروں کی فروخت پر مکمل پابندی، اقتصادی پابندیاں اور جرائم کی عالمی عدالت کی طرف سے لیبیا میں انسانیت کے خلاف جرائم کے سلسلے میں کارروائی تجویز کر رہے ہیں۔

یورپی یونین پہلے ہی لیبیا کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے جب کہ امریکہ نے بھی کہا ہے کہ وہ پابندیوں پر غور کر رہا ہے۔

لیبیا کے رہنما معمر قذافی کی حکومت کی طرف سے احتجاج میں شامل مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر عالمی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے۔

دریں اثنا لیبیا میں جاری حکومت مخالف مظاہروں اور تشدد کے واقعات کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ تیونس کے جنوب مشرقی سرحدی علاقے راس ایجیدار (RAS EIJEDIR) میں داخل ہو رہے ہیں جہاں مقامی شہریوں کی طرف سے ان کے لیے خوراک اور ذرائع آمدورفت کے انتظامات کیے گئے ہیں۔

اس سنسان علاقے میں پناہ کے لیے آنے والوں میں لیبیا کے علاوہ تیونس، مصر، چین اور ترکی کے باشندے بھی شامل ہیں جو ٹرکوں اور بسوں کے ذریعے یہاں پہنچے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق حکومت مخالف مظاہرین ملک کے مشرقی علاقوں میں اپنا کنٹرول مستحکم بنا رہے ہیں جب کہ دیگر علاقوں میں صدر معمر قذافی کی حامی فورسز احتجاج کرنے والوں کے خلاف لڑرہی ہیں۔

ہلال احمر کے علاقائی سربراہ نے فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو بتایا ہے کہ تقریباً پانچ ہزار افراد لیبیا سے سرحد عبور کر کے تیونس میں داخل ہوئے ہیں۔

متعلقہ

XS
SM
MD
LG