رسائی کے لنکس

قدافی فوری اقتدار چھوڑ دیں: صدر براک اوباما


قدافی فوری اقتدار چھوڑ دیں: صدر براک اوباما

قدافی فوری اقتدار چھوڑ دیں: صدر براک اوباما

ہفتے کے روز ہونے والے اجلاس سے قبل اقوام متحدہ کے لیے جرمنی کے سفیر پیٹر وٹنگ نے نامہ نگاروں سے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ پوری سلامتی کونسل لیبیا کے خلاف اقدامات پر متفق ہے اور وہ چاہتی ہے کہ اس کے خلاف فوری اور تیز تر کارروائی کی جائے۔

صدر براک اوباما نے کہاہے کہ لیبیا کے راہنما معمر قدافی اپنی حکمرانی کی قانونی حیثیت کھوچکے ہیں اور انہیں فوری طورپر اقتدار سے الگ ہوجانا چاہیے۔

وہائٹ ہاؤس کا کہناہے کہ مسٹر اوباما نے ان خیالات کا اظہار جرمنی کی چانسلر انگلا مرخیل سے ہفتے کے روز ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

بیان میں مزید کہا گیاہے کہ امریکہ اور جرمنی کے راہنماؤں نے لیبیا میں عام مظاہرین کے خلاف جاری حکومت کی پرتشدد پکڑدھکڑ پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور انہوں نے بین الاقوامی کمیونٹی کے ردعمل کے سلسلے میں موثر اور مناسب طریقہ کار پربھی بات چیت کی۔

ہفتے ہی کے روزامریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا کہ امریکہ مسٹر قدافی کی حکومت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار ٹہرانے کے لیے اقدامات کررہاہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے لیبیا کے راہنماؤں اور ان کے اہل خانہ کے امریکی ویزے منسوخ کردیے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے ارکان ہفتے کے روز لیبیا کی صورت حال پر ہنگامی اجلاس میں معمر قدافی کی حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کے خلاف پابندیوں پر غور کے لیے متفق ہوگئے۔

پندرہ رکنی سلامتی کونسل نے ہفتے کے روز اپنے اجلاس میں جن پابندیوں پر غور کیا ان میں لیبیا کے اثاثے منجمد کرنا، سفر پرپابندی اور ہتھیاروں کی فروخت روکنا شامل ہیں۔

قرارداد کے مسودے میں لیبیا کی حکومت کی پکڑ دھکڑ کے معاملات کوبین الاقوامی فوجداری عدالت میں لے جانے کے لیے بھی ابتدائی کام کیا جائے گا۔ ایک عدالتی کمشن یہ تحقیقات کرسکتا ہے کہ آیا بے چینی کی اس لہر کے دوران جنگی جرائم یا انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب تو نہیں کیا گیا ۔

اقوام متحدہ کے لیے لیبیا کے سفیر نے اس اقدام کی حمایت کی۔ سلامتی کونسل کے نام اپنے خط میں عبدالرحمن نے کہاہے کہ لیبیا کا وفد عام شہریوں پر مسلح حملوں کے مرتکب افراد کو جوبداہی کا ذمہ دار ٹہرانے کی اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

عبدالراحمن جمعے کے روز قدافی حکومت سے لاتعلق ہوگئے تھے۔

قراردار مسودہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے لکھاہے۔ ہفتے کے روز ہونے والے اجلاس سے قبل اقوام متحدہ کے لیے جرمنی کے سفیر پیٹر وٹنگ نے نامہ نگاروں سے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ پوری سلامتی کونسل لیبیا کے خلاف اقدامات پر متفق ہے اور وہ چاہتی ہے کہ اس کے خلاف فوری اور تیز تر کارروائی کی جائے۔

XS
SM
MD
LG