رسائی کے لنکس

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، 2011ء کی خانہ جنگی کے دوران تقریباً 8000 افراد قید ہوئے، اور وہ اب تک بغیر الزام کے زیر حراست ہیں اور اُنھیں وکلا تک رسائی کی سہولیت میسر نہیں

اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ لیبیا کی اُن جیلوں میں جہاں ملیشیا کا کنٹرول ہے، اذیت رسانی عام ہے۔ اِن ملیشاؤں نے دو سال قبل معمر قذافی کو ہٹانے کے سلسلے میں فوج کا ساتھ دیا تھا۔

عالمی ادارے کے انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والے دفتر ’او ایچ سی ایچ آر‘ نے منگل کو اپنی رپورٹ میں بتایا ہےکہ 2011ء کی خانہ جنگی کے دوران تقریباً 8000 افراد قید ہوئے، اور وہ اب تک بغیر الزام کے زیر حراست ہیں اور عام طور پر اُنھیں وکلا تک رسائی کی سہولیت حاصل نہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرفتاری کےفوری بعد تنازعے میں ملوث قیدیوں سے اصل حقائق جاننے اور دیگر اطلاعات حاصل کرنے کی غرض سے اکثر اذیت کے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔

اِس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لیبیا میں اقوام متحدہ کے مشن نے اکتوبر 2011ء میں قذافی کی ہلاکت کے بعد زیر حراست افراد کی 27ہلاکتوں کا ریکارڈ حاصل کیا ہے، جِن میں سے 11 ہلاکتیں اِسی سال واقع ہوئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لیبیا کی عدالتی پولیس کی تحویل میں بند قیدیوں کے حالات میں بہتری آئی ہے۔

تاہم، اِس ضمن میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ قیدیوں کے معاملے کو اپنی تحویل میں لینے کا کام تیز کیا جائے، اور ملیشیا کے کنٹرول والے قیدخانوں میں تربیت یافتہ پولیس اور اصلاح سے متعلق عہدے داروں کو تعینات کیا جائے۔
XS
SM
MD
LG