رسائی کے لنکس

ترقیاتی اہداف پر اقوام متحدہ کا اجلاس

  • ولیم ایگل

ترقیاتی اہداف پر اقوام متحدہ کا اجلاس

ترقیاتی اہداف پر اقوام متحدہ کا اجلاس

اقوامِ متحدہ کی تین روزہ سربراہ کانفرنس جس میں اگلے ہزار سال کے ترقیاتی اہداف کا جائزہ لیا گیا، ختم ہو چکی ہے ، لیکن ان اہداف کے حصول کی جد و جہد ختم نہیں ہوئی۔ ترقی کے شعبے میں سرگرم کارکن صنعتی ملکوں کی طرف سے زیادہ مالی امداد اور 2015ء تک کے Millennium Development Goals یا ترقیاتی اہداف حاصل کرنے کے لیے بہتر طریقے اختیار کرنے پر مسلسل زور دے رہے ہیں۔

گذشتہ جمعرات کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے،امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ امریکہ کی پالیسی میں غذا ئی اور مالی امداد کے مقابلے میں، اقتصادی ترقی کے لیے ترغیبات پر زیادہ زور دیا جائے گا اور دنیا کے ملکوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ اگلے ہزار سال کے ترقیاتی اہداف یا MIDGs کے حصول کے لیے عملی پالیسیاں ترتیب دیں۔ انھوں نے اس پیمانے کا اعادہ کیا جو امریکہ کے بین الاقوامی ترقیاتی ادارے یعنی یو ایس ایڈ نے ترقیاتی اہداف کے حصول میں کامیابی کی پیمائش کے لیے مقرر کیا ہے۔ اس پیمانے میں نئی اور دیر پا ٹیکنالوجیوں کا استعمال اور اس کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی بہتر جوابدہی اور ترقیاتی سرگرمیوں کے نتائج کا بہتر طور پر پتہ چلانا شامل ہے ۔

اوکسفیم چودہ تنظیموں کی بین الاقوامی کنفیڈریشن ہے جو دنیا کے 99 ملکوں میں اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ مِل کر غربت اور نا انصافی کے پائیدار حل تلاش کرنے میں مصروف ہے ۔

اوکسفیم ۔امریکہ میں Aid Effectiveness کے ڈائریکٹر Greg Adams کہتے ہیں کہ وہ ترقیاتی اہداف پورے کرنے میں صدر اوباما کی حکمت عملی کا خیر مقدم کرتےہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ۔ ان کے مطابق’’چند چیزیں جو انہیں کرنی چاہئیں یہ ہیں کہ انہیں امریکی کانگریس کے ساتھ مل کر امریکہ کی غیر ملکی امداد کے قوانین کو از سر نو تحریر کرنا چاہیئے ۔ آج کل یہ قوانین بے حد الجھے ہوئے ہیں۔ ہمیں یہ امید بھی ہے کہ صدر اوباما یو ایس ایڈ کے ایڈمنسٹریٹرراجیو شاہ کو نیشنل سکیورٹی کونسل کے زیادہ سے زیادہ اجلاسوں میں شامل کریں گے ۔ نئی پالیسی کا ایک مقصد یہ ہے کہ حکومت کی مجموعی خارجہ پالیسی میں ترقیاتی سرگرمیوں کی آواز بھی شامل کی جائے۔ لیکن آج کل وہائٹ ہاؤس میں جب خارجہ پالیسی کے اجلاس ہوتے ہیں، تو میز پر ترقیاتی سرگرمیوں کی بات کرنے والا کوئی نہیں ہوتا‘‘۔

اوکسفیم نے بڑے بڑے صنعتی ملکوں سمیت ، عطیات دینے والے ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ان وعدوں کو پورا کریں جو انھوں نے پانچ برس قبل Glenneagle, Scotland میں اپنی سربراہ کانفرنس میں کیا تھا ۔ انھوں نے کہا تھا کہ 2010ء تک امداد کی رقم 50 ارب ڈالر کر دی جائے گی۔ Oxfam کے مطابق، اب تک صرف 30 ارب ڈالر وصول ہوئے ہیں۔

نیروبی میں Oxfam کے Pan Africa ڈائریکٹر Irungu Houghton کہتے ہیں کہ سالانہ سربراہ کانفرنسوں میں جب سربراہان مملکت اہداف کا جائزہ لینے کےلیے جمع ہوں، تو ایک دوسرے کے کام کا جائزہ بھی لیا جانا چاہیئے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں ایسے طریقے وضع کرنے چاہئیں جن کے ذریعے، مثال کے طور پر ، کسی افریقی ملک کے صدر سے اس کے بھارتی یا برازیلی ہم منصب ترقیاتی اہداف کے بارے میں بات چیت کر سکیں۔ یعنی کوئی بھی سربراہِ مملکت اس فورم میں یہ جانے بغیر نہ آئے کہ سال کے دوران ان کے ملک میں ترقیاتی اہداف کو پورا کرنے کے لیے کیاکیا گیا ہے۔

ترقیاتی سرگرمیوں کی جدو جہد کرنے والے کارکن اس بات پر بھی زور دیتےہیں کہ کرپشن کے خلاف جنگ کی خاطر، ہر چیز واضح اور شفاف ہو نی چاہیئے۔ کرپشن کی وجہ سے سماجی خدمات اور رہن سہن کے معیار کو بہتر بنانے میں رکاوٹ پڑتی ہے ۔ اوکسفیم کے Pan Africa ڈائریکٹر کہتے ہیں کہ بزنس کنٹریکٹس کو زیادہ شفاف اور بد عنوانیوں سے پاک کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے صنعتی ملکوں کی ان کوششو ں کا خیر مقدم کیا ہے کہ بین الاقوامی کمپنیوں اور افریقی حکومتوں کے درمیان سودوں میں کوئی چیز خفیہ نہ ہو۔

اوکسفیم نے انتباہ کیا ہے کہ اگر ملکوں نے قرضوں کا بوجھ پھر بڑھانا شروع کر دیا تو ترقیاتی اہداف متاثر ہو سکتےہیں ۔ Houghton کہتے ہیں کہ بہت سے ترقی پذیر ملکوں نے خود کو عالمی اقتصادی انحطاط کے اثرات سے محفوظ کرنے کے لیے بلند شرح سود پر پرائیویٹ بنکوں سے قرضے لیے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ یہ ملک 60 ارب ڈالر کے خسارے میں چلے گئے ہیں اور 1980ء اور 1990ء کی دہائیوں کا وسیع پیمانے پر قرضوں کا دور واپس آ گیا ہے ۔

Houghtonنے تجویز پیش کی ہے کہ ایسا طریقہ ٔ کار وضع کیا جائے یا کوئی ایسا ادارہ بنایا جائے جو اس بات پر نظر رکھے کہ حکومتیں کس حد تک پرائیویٹ ذرائع سے قرض لے سکتی ہیں۔ یہ ادارہ انہیں یہ مشورہ بھی دے کہ قرض لینے کا محفوظ طریقہ کیا ہو سکتا ہے۔

انہیں امید ہے کہ یہ اور اس قسم کی دوسری تجاویز، G8 کی میٹنگوں اور دوسرے اجلاسوں میں زیرِ بحث آئیں گی جو عالمی معیشت اور معیارزندگی بہتر بنانے کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG