رسائی کے لنکس

سکیورٹی کا غیرتسلی بخش انتظام بےنظیربھٹو کےقتل کا سبب بنا: اقوامِ متحدہ تحقیقاتی کمیشن رپورٹ


بے نظیر بھٹو

بے نظیر بھٹو

رپورٹ میں قتل کےفوری بعد مقامی پولیس کی طرف سےلیےگئے اقدامات اوربھول چوک سے پردہ اٹھایاگیا ہے۔ رپورٹ میں جائے وقوعہ کو دھونے اور ثبوت کو جمع اور محفوظ کرنے میں غفلت کی نشاندہی کی گئی ہے

اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 27دسمبر 2007ء کو سابق وزیرِ اعظم ، بے نظیر بھٹو کا قتل سکیورٹی کے ناکافی انتظامات کے باعث ہوا۔

کمیشن نے یہ بات جمعرات کی شام نیو یارک میں جاری کی گئی 65صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ میں کہی ہے۔

اقوامِ متحدہ میں چِلی کے مستقل مندوب اور تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ، ہیرالڈو مونیز نے اخباری کانفرنس میں خطاب میں کہا کہ قتل کے واقع کے دِن سکیورٹی کی ذمہ داری ، اُس وقت کی وفاقی حکومت، حکومتِ پنجاب اور راولپنڈی ضلعے کی پولیس کی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن خطرات کا بے نظیر بھٹو کو سامنا تھا، اِن تینوں میں سے کسی ایک نے بھی اُن غیر معمولی، نئے اورفوری نوعیت کے سکیورٹی خطرات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، خاطر خواہ انتظامات نہیں کیے۔

رپورٹ میں بے نظیر بھٹو کے قتل کے فوری بعد مقامی پولیس کی طرف سے لیے گئے اقدامات اوربھول چوک سے پردہ اٹھایاگیا ہے۔ رپورٹ میں جائے وقوعہ کو دھونے اور ثبوت کو جمع اور محفوظ کرنے میں غفلت کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اِن اقدامات کے باعث تفتیش کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل، بان کی مون نے کمیشن کے ارکان اور اُس کے عملے کو ایک مشکل کام کو سرعت کے ساتھ اور پیشہ ورانہ انداز میں سرانجام دینے پرتعریف کی ہے۔

مسٹر بان کا بیان جمعرات کو جاری ہوا، جس میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کےسپرد کیا ہوا کام مکمل ہوگیاہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ جرم سے متعلق تحقیقات، قاتلوں کا کھوج لگانے اور انصاف کے کٹہرے تک لانے کا کام پاکستانی اہل کاروں کا ہے۔

رپورٹ دو ہفتے قبل جاری ہونی تھی لیکن پاکستان کی درخواست پر اُسے مؤخر کیا گیا تھا۔

ابتدائی طور پر پاکستان اور امریکہ نے محترمہ بھٹو کی ہلاکت کا ذمہ دار پاکستانی طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود کو ٹھہرایا تھا۔ لیکن اُن کے قریبی اتحادیوں کا کہنا ہے کہ حکومتی عہدے داروں یا مرحومہ کے سیاسی مخالفین کا اِس میں کوئی کردار ہوسکتا ہے۔

بے نظیر بھٹو 27دسمبر 2007ء کو راولپنڈی میں پستول اور خودکش بم حملے کے نتیجے میں ہلاک ہوئی تھیں۔ اُن کی ہلاکت کے مہینوں بعد اُن کی پارٹی قومی سطح کے انتخابات میں سرخرو ہوکر اُبھری اور اُن کے شوہر آصف علی زرداری صدر بنے۔

XS
SM
MD
LG