رسائی کے لنکس

محمود عباس نے اقوامِ متحدہ کی رکنیت کے لیے درخواست داخل کردی


فلسطین کے صدر محمود عباس
فلسطین کے صدر محمود عباس

امریکہ اور اسرائیل کی شدید مخالفت کے باوجود فلسطین کے صدر محمود عباس جمعہ کو اقوامِ متحدہ سے باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو عالمی ادارے کے مکمل رکن کی حیثیت سے تسلیم کرنے کی درخواست جمع کرادی۔

صدر عباس نے یہ درخواست جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب سے پہلے جمع کروائی۔

اس سے قبل صدر عباس نے فلسطینی ریاست کو عالمی ادارے سے تسلیم کرانے کی کوششیں ترک کرنے کی تمام اپیلیں مسترد کردی تھیں۔

اقوامِ متحدہ میں ممکنہ سفارتی تصادم کو روکنے کے لیے جمعرات کو دن بھر جاری رہنے والی امریکی و یورپی کوششیں بے نتیجہ ثابت ہوئیں۔

امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ امریکہ، یورپی یونین، اقوامِ متحدہ اور روس پر مشتمل مشرقِ وسطیٰ کے متعلق چار فریقی گروپ کے سفارت کاروں کا ایک اجلاس جمعہ کو منعقد ہوگا جس میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی دوبارہ بحالی پر غور کیا جائے گا۔

امریکہ اور اسرائیل سلامتی کونسل کے ارکان پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اقوامِ متحدہ کی رکنیت کے حصول کے لیے فلسطینی درخواست کی یا تو مخالفت کریں یا اس پر ہونے والی رائے شماری میں حصہ نہ لیں۔

صدر اوباما نے فلسطینی صدر کو دو ٹوک الفاظ میں اقوام متحدہ میں اس درخواست کو جمع کرانے سے منع کیا تھا۔ جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے میں صدر اوباما نے کہا تھا کہ علاقے میں امن اور فلسطینی ریاست کا قیام قرارداد سے نہیں بلکہ اسرائیل اور فلسطینی قیادت کے درمیان مذاکرات سے ہوگا۔

تاہم اگر فلسطینی اپنی درخواست کے حق میں خاطر خواہ حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو بھی جائیں تب بھی انہیں عالمی ادارے کی مکمل رکنیت ملنے کے امکانات معدوم ہیں کیوں کہ امریکہ پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ وہ فلسطین کی اس قرارداد کو 'ویٹو' کردے گا۔

سلامتی کونسل مذکورہ درخواست پر غور کرنے میں کئی ہفتے لگا سکتی ہے جس کے دوران فریقین کو سفارت کاری کے لیے مزید وقت مل جائے گا۔ قرارداد کے مسترد ہونے کی صورت میں فلسطینی انتظامیہ عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی سے درخواست کرسکتی ہے کہ فلسطین کو عالمی ادارے میں ووٹ کے حق سے محروم مبصر ریاست کا درجہ دے دیا جائے۔

ادھر ویسٹ بینک میں اسرائیلی فورسز نے فلسطینی مظاہرین کے درمیان جھڑپ میں ایک فلسطینی کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔

دریں اثناء اسرائیلی وزارتِ دفاع کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ ملک میں سکیورٹی ہائی الرٹ کیے جانے کے بعد اسرائیلی افواج، سرحدی محافظ اور پولیس باہم رابطے میں رہیں گے جبکہ حساس علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے اضافی دستے تعینات کیے جارہے ہیں۔

بدھ کو عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی کے جاری اجلاس سے خطاب میں امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ ایک خود مختار فلسطینی ریاست کا حصول "بیانات اور اقوامِ متحدہ میں قراردادوں" کے بجائے فریقین کے درمیان براہِ راست مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔

امریکی صدر کے اس بیان کے خلاف جمعرات کو مغربی کنارے کے شہروں راملہ اور نابلوس میں سینکڑوں فلسطینی باشندوں نے احتجاج کیا تھا۔ مظاہرین نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر امریکی صدر کے خلاف نعرے درج تھے اور وہ صدر اوباما پر اسرائیل کی پشت پناہی کا الزام عائد کر رہے تھے۔

یاد رہے کہ جمعرات کو امریکی ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز کے نائب سربراہان نے ایک بار پھر خبردار کیا تھا کہ اگر فلسطینی رہنماؤں کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی رکنیت کے حصول کی کوشش کی گئی تو امریکی کانگریس فلسطینیوں کو دی جانے والی امریکی امداد اور باہمی تعاون کے دیگر امور کا "ازسرِ نو جائزہ" لے گی۔

تاہم فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ترکی کے وزیرِاعظم رجب طیب اردوان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ امن قائم کرنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالے۔

ترک وزیرِاعظم نے موقف اختیار کیا ہے کہ اسرائیلی رہنماؤں کو "اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ حقیقی سلامتی صرف حقیقی امن کے قیام سے ہی ممکن ہے"۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل اقوامِ متحدہ کی بالادستی کو مستقل چیلنج کرتا آرہا ہے۔

XS
SM
MD
LG