رسائی کے لنکس

سلامتی کونسل فلسطینی درخواست پر غور کرے گی


فلسطین کے صدر محمود عباس نے جمعہ کو عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو یہ درخواست پیش کی تھی

فلسطین کے صدر محمود عباس نے جمعہ کو عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو یہ درخواست پیش کی تھی

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل فلسطین کی جانب سے عالمی ادارے کی مکمل رکنیت کےحصول کی درخواست پرپیر کو غور کا آغاز کر رہی ہے جبکہ اسرائیلی رہنماؤں کی جانب سے براہِ راست مذاکرات کی بحالی پر اصرار بدستور جاری ہے۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نے جمعہ کو عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو یہ درخواست پیش کی تھی جس میں فلسطین کو آزاد مملکت تسلیم کرتے ہوئے اسے اقوامِ متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کا کہا گیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے پرجوش خطاب کے بعد صدر محمود عباس کا اتوار کو واپس فلسطین کے علاقے مغربی کنارے پہنچنے پر شان دار استقبال کیا گیا۔

راملہ میں استقبال کے لیے آنے والے ہزاروں حامیوں سے خطاب میں فلسطینی صدر کا کہنا تھا کہ وہ سب "بہارِ فلسطین" کا حصہ ہیں۔ صدر عباس نے اپنے خطاب میں ایک بارپھر اس موقف کا اعادہ کیا تھا کہ ان کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات اسی صورت میں شروع کیے جائیں گے جب اسرائیلی حکومت فلسطینی مقبوضات میں صیہونی بستیوں کی تعمیر روکے گی۔

امریکی ثالثی میں ہونے والے فلسطین،اسرائیل امن مذاکرات گزشتہ برس اس وقت تعطل کا شکار ہوگئے تھے جب اسرائیلی حکومت نے فلسطینی علاقوں میں صیہونی بستیوں کی تعمیر پر عائد عارضی پابندی میں توسیع سے انکار کردیا تھا۔

قبل ازیں اسرائیل کے وزیرِاعظم نے کہا تھا کہ فلسطینی رہنماؤں کا اقوامِ متحدہ سے رجوع کرنا غلط ہے اور انہیں اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ ان کے بقول فلسطینی اسرائیل کی سلامتی سے متعلق یقین دہانیاں کرائے بغیر ایک آزاد مملکت کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں۔

بینجمن نیتن یاہو نے ایک بار پھر فلسطینیوں کو دعوت دی کہ وہ بغیر کسی پیشگی شرط کے اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کا فوری آغاز کریں۔

تاہم ایک اعلیٰ فلسطینی اہلکار حنان عشراوی کا کہنا ہے کہ خود اسرائیل نے امن مذاکرات کے آغاز کے لیے ناقابلِ قبول پیشگی شرائط عائد کر رکھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل "یروشلم کی علیحدگی چاہتا ہے" اور اس کی خواہش ہے کہ "فلسطینی مہاجرین کی واپسی" کا معاملہ مذاکرات کے ایجنڈے سے خارج کردیا جائے۔

عشراوی کے بقول "اسرائیل ہر چیز لینا چاہتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ 'آئیے! مذاکرات کرتے ہیں'"۔

امریکہ، اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور روس پر مشتمل مشرقِ وسطیٰ کے چار فریقی گروپ نے بھی اسرائیل اور فلسطین پر زور دیا ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر اندر براہِ راست مذاکرات شروع کریں اورآئندہ برس تک کسی معاہدے پر متفق ہوجائیں۔

اسرائیل کے وزیرِ خارجہ نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ان کا ملک چار فریقی گروپ کے منصوبے کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے فلسطینی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ مذاکرات کی میز سے دور رہنے کے لیے بہانے تلاش نہ کریں۔

تاہم فلسطین کے وزیرِ خارجہ ریاض المالکی نے کہا ہے کہ چار فریقی گروپ کی جانب سے براہِ راست مذاکرات کی بحالی کا نیا منصوبہ کافی نہیں کیوں کہ اس میں اسرائیل سے فلسطینی مقبوضات میں صیہونی بستیوں کی تعمیر روکنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔

المالکی کے بقول گروپ کے منصوبے میں اسرائیل سے اپنی افواج دوبارہ ان علاقوں تک محدود کرنے کے حوالے سے بھی کوئی مطالبہ شامل نہیں جہاں 1967ء میں فلسطینی بستیوں پر قبضہ سے قبل اس کی افواج تعینات تھیں۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے حال ہی میں کہا تھا کہ واشنگٹن اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کی قرارداد ویٹو کردے گا۔ جبکہ عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں امریکی صدر نے واضح کیا تھا کہ تنازعہ کا حل کا واحد راستہ فریقین کے درمیان براہِ راست مذاکرات ہیں۔

XS
SM
MD
LG