رسائی کے لنکس

اقوامِ متحدہ نے امن مشنز کے نئے سربراہ کا تقررکردیا


ہارو لیڈسوس

ہارو لیڈسوس

اقوامِ متحدہ نے اپنے امن مشنز کے نئے سربراہ کا اعلان کردیا ہے۔ سینئر فرانسیسی سفارت کار ہارو لیڈسوس کو یہ اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی جانب سے جمعہ کو جاری کیے گئے ایک بیان میں نئی تعیناتی کا اعلان کیا گیا۔ بیان کے مطابق سابق سفارت کار اقوامِ متحدہ کو درپیش چیلنجز کے مقابلے کے لیے "درست سیاسی فیصلوں کی صلاحیت" اور "معاملہ فہمی" جیسی خصوصیات اپنے ہمراہ لارہے ہیں۔

لیڈسوس اقوامِ متحدہ کی ایک لاکھ 20 ہزار امن رضاکاروں کی فوج ، اس کے لیے مختص سات ارب ڈالرز سے زائد بجٹ اور ہیٹی، جنوبی سوڈان، ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو اور دنیا کے دیگر خطوں میں جاری امن مشنز کے نگران ہوں گے۔

امن مشنز کے سربراہ کی حیثیت سے سابق سفارت کار کو کچھ ایسی حکومتوں اور آبادیوں کی ناراضگی جیسے چیلنجز بھی درپیش ہوں گے جنہیں یہ شکوہ رہا ہے کہ عالمی ادارے کے امن رضاکار بعض اوقات ان ہی لوگوں کے ساتھ بدتر سلوک کرتے ہیں جن کی حفاظت کے لیے انہیں تعینات کیا جاتا ہے۔

لیڈسوس ایلن لی رائے کی جگہ سنبھالیں گے جو گزشتہ ماہ امن افواج کی سربراہی سے سبکدوش ہوگئے تھے۔ واضح رہے کہ عالمی ادارے کے امن مشنز کی سربراہی روایتی طور پر فرانس ہی کو سونپی جاتی ہے جو عالمی ادارے کی ان روایات کے مطابق ہے جن کے تحت ادارے کے اہم عہدے امریکہ، فرانس، برطانیہ اور سکیورٹی کونسل کے دیگر مستقل اراکین نے آپس میں بانٹ رکھے ہیں۔

لیڈ سوس کی تعیناتی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ہیٹی میں تعینات عالمی مشن کے یوراگوئے سے تعلق رکھنے والے چار فوجیوں کو ایک مقامی لڑکے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزام کا سامنا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے امن مشنز کے نئے سربراہ کا تقررکردیا

اقوامِ متحدہ نے امن مشنز کے نئے سربراہ کا تقررکردیا

امریکی ٹی وی 'اے بی سی نیوز' کے مطابق جولائی میں پیش آنے والے اس واقعہ کی موبائل فون کے ذریعے بنائی گئی ایک ویڈیو ہیٹی میں خاصی عام ہوچکی ہے جس کے باعث مقامی لوگوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک فوجی کم عمر لڑکے کو بظاہر جنسی تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے جبکہ 'کیمو فلاج وردیوں' میں ملبوس اس کے دیگر ساتھی قہقہے لگا رہے ہیں۔ چینل کے مطابق ہیٹی کی ایک مقامی عدالت میں مذکورہ واقعہ کے حوالے سے پیش کیے گئے ایک میڈیکل سرٹیفیکٹ میں بھی متاثرہ لڑکے کو جنسی تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔

اقوامِ متحدہ نے مذکورہ واقعہ کی تحقیقات کرنے اور الزامات درست ثابت ہونے پر ذمہ دار فوجیوں کے خلاف کاروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

تاہم امن مرکز کے ایک کمانڈر نے 'اے بی سی نیوز' کو بتایا کہ مذکورہ ویڈیو محض ایک "کھیل" کے واقعہ پر مشتمل ہے۔ کمانڈر کے مطابق متاثرہ قرار دیا جانے والا لڑکا عموماً فوجی مرکز کے قریب آتا جاتا رہتا تھا اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ فوجی اس سے مذاقاً اس طرح کا سلوک کر رہے ہیں۔ انہوں نے تردید کی کہ الزامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

عالمی ادارے کے امن رضاکاروں پر اس سے قبل بھی جنسی زیادتیوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ سن 2005ء میں تیار کی گئی ایک رپورٹ میں ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو میں تعینات عالمی ادارے کے امن رضاکاروں کو زنا بالجبر، بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور کم عمر بچوں کوخوراک اور پیسوں کا لالچ دے کر انہیں جنسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG