رسائی کے لنکس

10 ہزار فلسطینی پناہ گزین شام کے کیمپ سے 'غائب'


مخالفین پر سرکاری فوج کا کریک ڈاؤن جاری ہے

مخالفین پر سرکاری فوج کا کریک ڈاؤن جاری ہے

اقوامِ متحدہ کے امدادی ادارے نے کہا ہے کہ شام کے ساحلی شہر لتاکیہ میں واقع پناہ گزینوں کے ایک کیمپ سے فرار ہونے والے 10 ہزار کے لگ بھگ فلسطینی باشندے "غائب" ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ کئی روز سے لتاکیہ میں شامی حکومت کے مخالفین کے خلاف سرکاری سکیورٹی فورسز کی کارروائی جاری ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے 'ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی' کے ترجمان کرسٹوفر گنیس نے منگل کو 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ شدید فائرنگ کے باعث پناہ گزین پیر کو کیمپ سے فرار ہوگئے تھے جس کے بعد ان کے ادارے کو کچھ نہیں پتا کہ وہ کہاں گئے۔

ترجمان نے ادارے کے حکام کو کیمپ تک فوری رسائی دینے کا مطالبہ کیا جہاں ان کے بقول ایک اسپتال ، کئی اسکولز اور نوجوانوں کے دیگر ادارے موجود ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ امدادی رضاکاروں کو بیمار، عمر رسیدہ اور ضرورت مندافراد کی مدد کرنے کی اجازت دی جائے۔

ادارے کو شامی حکام کی جانب سے کیمپ تک رسائی فراہم کرنے کی درخواست کا تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے تاہم ترجمان کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ آئندہ دو سے تین روز میں انہیں اس حوالے سے مطلع کردیا جائے گا۔

ادھر لتاکیہ میں حکومت مخالفین کے خلاف کارروائی پیر کو مسلسل تیسرے روز بھی جاری رہی جہاں انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ہفتہ سے جاری کریک ڈائون کے دوران اب تک 30 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

دریں اثناء پڑوسی ملک ترکی نے شام کی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اسے اپنے ہی شہریوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن "فوری اور غیر مشروط طور پر بند کردینا چاہیے"۔

ترک وزیرِ خارجہ احمت اوغلو کا کہنا تھا کہ یہ ان کے ملک کی جانب سے "شامی حکام کے لیے حتمی پیغام ہے"۔

ادھر ملک کے وسطی شہر حمص کے نزدیک واقع قصبہ حولہ میں شامی سکیورٹی فورسز نے ٹینکوں کی مدد سے پیر کو قصبہ کے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر کئی افراد کو حراست میں لے لیا۔

شام میں پیش آنے والے واقعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق مشکل ہے کیونکہ شامی حکومت نے ملک میں غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی نقل و حرکت محدود کر رکھی ہے۔

XS
SM
MD
LG