رسائی کے لنکس

دنیا موسمیاتی تغیّر کے نتائج کے لیے تیار نہیں: رپورٹ


عالمی ادارہ برائے ماحولیات سے منسلک کیلی لیون کا کہنا ہے کہ دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں ہے جسے موسمیاتی تغیر کے خطرات لاحق نہ ہوں۔

اقوام ِ متحدہ کی جانب سے شائع کردہ ایک نئی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں موسمیاتی تغیر کی وجہ سے جنگلات اور سمندری حیات میں کمی کا رجحان جاری رہے گا۔

دوسری طرف رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ موسمیاتی تغیر کی وجہ سے نہ صرف آنے والے وقت میں ہمیں مزید شدید موسموں کے لیے تیار رہنا چاہیئے بلکہ خوراک اور پانی کی قلت کے سامنے کے لیے بھی اپنے آپ کو تیار رکھنا چاہیئے۔

جاپان میں موسمیاتی تغیر کے حوالے سے ہونے والی ایک کانفرنس میں اکٹھے ہوئے سائنسدان اس بات پر متفق دکھائی دئیے کہ ہماری دنیا ان خطرات سے نمٹنے کے لیے بظاہر تیار نہیں دکھائی دیتی۔

عالمی ادارہ برائے ماحولیات سے منسلک کیلی لیون کا کہنا ہے کہ دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں ہے جسے یہ خطرات لاحق نہ ہوں۔

کیلی لیون کے الفاظ، ’اس کانفرنس کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ ماحولیات تغیر دنیا بھر میں پھیل چکا ہے اور لامحالہ ہمیں اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ہم آئے دن سمندر کی سطح بلند ہونے کی وجہ سے آنے والے سیلابوں کے حوالے سے بیانات پڑھتے رہتے ہیں مگر ہمیں یہ اندازہ نہیں ہے کہ اس صدی کے آخر تک اسی وجہ سے لاکھوں افراد کو سیلابوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے‘۔

ماہرین کے مطابق افریقہ اور آسٹریلیا کو ان سیلابوں کا زیادہ خطرہ ہے۔ جبکہ دوسری طرف ایشیاء، یورپ، شمالی امریکہ اور یورپ کو شدید گرمی کی لہر کا سامنا ہو سکتا ہے۔

’گلوبل کال فار کلائمیٹ ایکشن‘ سے منسلک کرسچن ٹیریاٹ جیسے سرگرم کارکن اسی مسئلے کے حوالے سے اکٹھے ہوئے ہیں تاکہ عالمی رہنماؤں کے سامنے ماحولیاتی تغیر اور اس سے ہونے والی تبدیلیوں کی سنگینی کو سامنے لا سکیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اقوام ِ متحدہ کی جانب سے ماحولیاتی تغیر پر شائع کردہ رپورٹ سے اس مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین ِ موسمیات اکٹھے ہو سکتے ہیں اور ماحولیات کو بہتر کرنے کے لیے پالیسیاں وضع کر سکتے ہیں جن کو نافذ کرکے ان مسائل سے نمٹنا ممکن ہو سکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG