رسائی کے لنکس

سعودی سفیر کے قتل کی مبینہ سازش پر اقوام متحدہ میں مذمتی قرارداد منظور

  • مارگریٹ بشیر

سعودی سفیر کے قتل کی مبینہ سازش پر اقوام متحدہ میں مذمتی قرارداد منظور

سعودی سفیر کے قتل کی مبینہ سازش پر اقوام متحدہ میں مذمتی قرارداد منظور

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفیر کو قتل کرنے کی مبینہ سازش پر ایران کی مذمت کی ہے ۔

ایسا لگتا تھا جیسے یہ کسی ناول کی کہانی ہے ۔ گذشتہ ماہ امریکی عہدے داروں نے الزام لگایا کہ ایران کی القدس فورس کے ایجنٹوں نے امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر ، عادل الجبیر کو واشنگٹن کے ایک ریستوراں میں قتل کرنے کی سازش کی تھی ۔ اس سازش میں ملوث ایک ایرانی کو جس کے پاس امریکہ کی شہریت ہے، ، گرفتار کر لیا گیا ۔ اس نے اس الزام سے انکار کیا ہے ۔ ایک اور فرد کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ایران میں ہے اور اسے گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

ان دونوں افراد پر الزام ہے کہ انھوں نے سعودی سفیر کو بم کے ذریعے یا گولیاں چلا کر ہلاک کرنے کے لیے، میکسیکو کے منشیات کے ایک گروہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی خدمات حاصل کی تھیں ۔ لیکن یہ مبینہ قاتل در اصل ایک مخبر تھا جسے امریکی حکام سے پیسے ملتے تھے ۔ اس نے تمام تفصیلات امریکی حکام کو بتا دیں، اور یوں اس سازش کو ناکام بنا دیا گیا۔
سعودی عرب نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے، جمعے کے روز اقوام متحدہ کی 193 رکنی جنرل اسمبلی کے سامنے ایک قرار داد پیش کی جس میں ہر شکل میں دہشت گردی کی مذمت کی گئی تھی، اور خاص طور سے اس مبینہ سازش کو قابلِ مذمت قرار دیا گیا تھا۔ قرار داد پیش کرنے والوں میں 50 سے زیادہ دوسرے رکن ممالک شامل تھے ۔

اس قرار داد کے حق میں، جس کی پابندی لازمی نہیں ہے، 106 ووٹ آئے۔ اسکے خلاف 9 ووٹ ڈالے گئے اور 40 ملکوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا ۔ قرار داد میں ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے، خاص طور سے جو لوگ اس سازش میں ملوث ہیں، انہیں انصاف کے کٹہرے تک لانے کی بین الاقوامی کوششوں میں تعاون کرے ۔
سعودی سفیر عبداللہ المعلمی نے جنرل اسمبلی سے کہا کہ یہ قرار داد متوازن ہے، اور اس کے باوجود کہ اس سازش میں ایران یا اس کی کسی ایجنسی کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں ، اس میں براہ راست کسی کی مذمت نہیں کی گئی ہے ۔

سفیر المعلمی نے کہا’’انصاف کا تقاضہ ہے کہ ہم اسلامی جمہوریۂ ایران کو اپنی بات بتانے کا پورا موقع دیں، اور اگر وہ اس سازش میں ملوث نہیں ہے، تو اسے اپنی بے گناہی ثابت کرنے دیں۔ اس معاملے میں دو میں سے ایک بات ہی صحیح ہو سکتی ہے ۔ یا تو ایران کو اپنی بے گناہی کا پورا یقین ہے اور وہ ان تمام الزامات کی تردید کر سکتا ہے جو اس پر لگائے گئے ہیں ۔ ایسی صورت میں اسے پر اعتماد اور سنجیدہ انداز میں ، جلد از جلد ، الزامات کا جواب دینا چاہیئے۔ دوسری صورت میں، ایران یا اس کا کوئی محکمہ یا اس کا کوئی شہری اس سازش میں ملوث ہے۔ ایسی صورت میں، قدرتی طور پر وہ الزامات کی صحت سے انکار کرے گا اور اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش کرے گا۔‘‘

سفیر المعلمی نے ووٹنگ کے بعد رپورٹروں کو بتایا کہ اس بات کے واضح ثبوت موجود ہیں کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب کور سے تعلق رکھنے والے یا اس کے لیے کام کرنے والے عناصر اس سازش میں ملوث ہیں۔ انھوں نے کہا دستیاب شواہد میں ٹیپ کیا ہوا اقبالِ جرم، ریکارڈ کی ہوئی بات چیت، پیسے کا تبادلہ اور دوسری انٹیلی جینس شامل ہے ۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر محمد خاذی نے قراردادکے مسودے پر اعتراض کیا اور کئی ترمیمات پیش کیں جنہیں اسمبلی نے بھاری اکثریت سے نا منظور کر دیا۔ ایرانی مندوب نے کہا کہ اس معاملے کو جنرل اسمبلی کے سامنے لانے سے ، سیاسی اختلافات کا حساب چکانے کی خطرناک روایت قائم ہوئی ہے ۔ انھوں نے کہا’’یہ الزام جو اب اس قرارداد کے مسودے کی بنیاد ہے، ایک اور سازش ہے، سعودی سفیر کے خلاف نہیں، بلکہ یہ میرے ملک کے خلاف سازش ہے، اور اسی جانی پہچانی راہ پر ایک اور قدم ہے ۔ اس پس منظر میں، ہم میں سے کسی کو یہ بات قبول نہیں کرنی چاہیئے کہ اس جنرل اسمبلی کو ، ایک رکن ملک کے خلاف کسی سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے ۔‘‘

امریکی سفیر سوزن رائس نے کہا کہ سفارت کاروں کے خلاف حملے، جنہیں بین الاقوامی طور پر تحفظ حاصل ہوتا ہے، دہشت گردی کی کارروائیاں ہیں ۔ انھوں نے جمعے کے روز کی قرار داد کو خیر مقدم کیا اور کہا یہ ایک موزوں اور سوچا سمجھا اقدام ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک مشتبہ شخص کے خلاف جو سرکاری تحویل میں ہے، امریکہ میں مقدمہ چلانے کے لیے عدالتی کارروائی جاری ہے ۔
سعودی عرب اور ایران کے درمیان، جن میں سے ایک سنی ہے اور ایک شیعہ، کئی برسوں سے تعلقات کشیدہ ہیں۔ دونوں ملک جو تیل کی دولت سے مالا مال ہیں، علاقے میں اپنا اثر و رسوخ اور برتری قائم کرنے کی جدو جہد کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG