رسائی کے لنکس

یمن کے بچوں پر حملے، سعوی عرب کے خلاف الزامات


فائل

فائل

اقوام متحدہ کی اِس سال کی فہرست میں سعودی قیادت والے اتحاد کا نام لیا گیا ہے جو یمن میں حوثی باغیوں سے لڑ رہا ہے، جو فریق کے طور پر بچوں کو ہلاک ور اپاہج کرنے کا سبب بنتے ہیں، اور اسکولوں اور اسپتالوں پر حملوں میں ملوث رہے ہیں

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے منگل کے روز کہا ہے کہ اُنھیں سعودی قیادت میں لڑنے والے اتحاد کی جانب سے اب بھی یمن کے بچوں کے تحفظ کے بارے میں ’’انتہائی سخت تشویش‘‘ لاحق ہے۔

بان کی مون نے یہ بات اس مسلح تنازع میں بچوں کے بارے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اپنی سالانہ رپورٹ پر بریفنگ کے دوران بتائی۔

یہ رپورٹ جس میں اُن دھڑوں کی سیاہ فہرست شامل ہوتی ہے جو لڑائی میں بچوں کو ہلاک کرتے ہیں۔ اس سال کی فہرست میں سعودی قیادت والے اتحاد کا نام لیا گیا ہے جو یمن میں حوثی باغیوں سے لڑ رہا ہے، جو فریق کے طور پر بچوں کو ہلاک ور اپاہج کرنے کا سبب بنتے ہیں، اور اسکولوں اور اسپتالوں پر حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

سعودی عرب نے فہرست میں اپنے نام کی شمولیت پر احتجاج کیا ہے۔ بان پر ’’نامناسب دباؤ‘‘ پڑا اور دھمکیاں ملیں کہ اقوام متحدہ کے زندگی بچانے کے پروگراموں کے لیے دی جانے والی رقوم نہیں ملیں گی، جس پر اُنھوں نے اتحاد کو ’بلیک لسٹ‘ سے نکال دیا تاوقتیکہ نظر ثانی مکمل کی جاسکے۔

بان نے کونسل کو بتایا کہ ’’تب سے مجھے اتحاد کی جانب سے اُن اقدام کے بارے میں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیاں بند کی جائیں گی‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’اب بھی مجھے یمنی بچوں کے تحفظ کے بارے میں انتہائی سخت تشویش لاحق ہے۔ اُنھیں ہمیشہ اولیت دی جانی چاہیئے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے اہل کار اپنی تشویش کے بارے میں سعودی حکام کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔ لیکن، ’’رپورٹ کی مشتملات اپنی جگہ رہیں گی‘‘۔

بان نے رکن ممالک کو بتایا کہ ’’اگر آپ اپنا تاثر درست کرنا چاہتے ہیں، تو بچوں کا تحفظ کریں‘‘۔

XS
SM
MD
LG