رسائی کے لنکس

داعش کے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ


فائل

فائل

عالمی ادارے نے اپنی رپورٹ میں عراقی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مبینہ جرائم میں ملوث شدت پسندوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے عالمی عدالت سے تعاون کرے۔

اقوامِ متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدت پسند تنظیم داعش پر عراق میں جنگی جرائم، انسانیت سوز مظالم اور قتلِ عام جیسی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کی جانب سے تیار کی جانے والی رپورٹ میں سلامتی کونسل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ داعش کے مبینہ سنگین جرائم کی تحقیقات اور ذمہ داران کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے معاملے کو بین الاقوامی عدالت برائے جرائم (آئی سی سی) کے سپرد کرے۔

رپورٹ داعش کے ظلم و ستم کا نشانہ بننےاور ان کا مشاہدہ کرنے والے 100 سے زائد متاثرین اور عینی شاہدین کے انٹرویوز پر مشتمل ہے جس میں عراق میں داعش کے جنگجووں کی مختلف کارروائیوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔

جمعرات کو جنیوا میں رپورٹ کے اجرا کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عالمی ادارے کے دفتر برائے انسانی حقوق کی علاقائی عہدیدار ہینی میگالے نے کہا کہ ان کی تحقیقات سے واضح ہورہا ہے کہ داعش عراق میں جنگی جرائم اور انسانیت سوز مظالم میں ملوث ہے۔

انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں پر عراق کی مختلف آبادیوں – خصوصاً یزیدی اقلیت کے قتلِ عام اور نسل کشی کی کارروائیوں کا بھی شبہ ہے۔

ہینی میگالے کے بقول عالمی ادارہ چاہتا ہے کہ عراق میں جاری بحران کے باوجود شدت پسندوں کے ان مبینہ مظالم اور جرائم کے شواہد اکٹھے کرنے اور محفوظ بنانے کا کام تیز کیا جائے کیوں کہ یہ شواہد مستقبل میں ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے میں مدد دیں گے۔

عالمی ادارے کے تفتیش کاروں نے اپنی رپورٹ میں عراقی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مبینہ جرائم میں ملوث شدت پسندوں کے خلاف اپنے قوانین کے تحت کارروائی کو یقینی بنائے یا ملزموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے عالمی عدالت سے تعاون کرے۔

اقوامِ متحدہ نے ان تحقیقات کا آغاز گزشتہ سال ستمبر میں عراق کے وسیع شمالی اور مغربی علاقے پر داعش کے جنگجووں کے قبضے کے بعد کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG