رسائی کے لنکس

سلامتی کونسل کی شمالی کوریا کے میزائل تجربے کی مذمت


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اتوار کو جاری ہونے والے ایک بیان میں سلامتی کونسل نے کہا کہ میزائل کی ایسی سرگرمیاں "ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا کے جوہری ہتھیاروں کی ترسیل کے نظام کو ترقی دینے کا حصہ ہیں" اور یہ عالمی تناؤ میں اضافے کا باعث بھی ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا کی طرف سے ہفتے کو آبدوز سے کیے گئے بلسٹک میزائل کے تجربے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کے موجودہ قراردادوں کی "ایک اور سنگین خلاف ورزی" قرار دیا ہے۔

اتوار کو جاری ہونے والے ایک بیان میں سلامتی کونسل نے کہا کہ میزائل کی ایسی سرگرمیاں "ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا کی جوہری ہتھیاروں کی ترسیل کے نظام کو ترقی دینے کا حصہ ہیں" اور یہ عالمی تناؤ میں اضافے کا باعث بھی ہیں۔

بیان میں سلامتی کونسل نے متنبہ کیا کہ وہ شمالی کوریا کے خلاف مزید اقدامات کرے گی۔ اس بیان سے چند ہفتے قبل ہی اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں کی پابندی کروانے کی عرض سے پیانگ یانگ پر دباؤ کے لیے نئی سخت پانبدیاں عائد کی ہیں۔

پیانگ یانگ کے سرکاری خبررساں ادارے 'کے سی این اے' کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ کی ذاتی نگرانی میں ہونے والے تازہ ترین تجربے سے اس کے زیر سمندر سے مار کرنے والے نظام کا قابل اعتماد ہونا ثابت ہوتا ہے۔ تاہم جنوبی کوریا نے اس تجربے کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ میزائل صرف 30 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد سمندر میں گر گیا تھا۔

اس طرح کے تجربات میں میزائل کم ازکم 300 کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ سکتے ہیں تاہم یہ میزائل اس سے پہلے ہی گر گیا اور سیئول حکومت کے ذرائع نے کہا کہ اس میزائل کے فائر ہونے کے فوری بعد اس کے انجن میں خرابی پیدا ہو گئی تھی۔

قبل ازیں امریکی صدر باراک اوباما نے کہا کہ اس سے "واضح ہوتا ہے کہ شمالی کوریا کا رویہ اشتعال انگیز ہے۔" جرمنی کے دورے کے دوران اوباما نے شمالی کوریا کی اس پیشکش کو مسترد کر دیا کہ اگر امریکہ جنوبی کوریا کے ساتھ اپنی سالانہ فوجی مشقوں کو معطل کرتا ہے تو وہ جوہری تجربات کو عارضی طور پر روک دے گا۔

اوباما نے کہا کہ "ہم صرف عارضی طور پر تجربات روکنے کے کسی معاہدے کو سنجیدگی سے نہیں لے سکتے۔"

خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا آبدوز سے میزائل فائر کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کے ابتدائی مراحل میں ہے اور وہ گزشتہ سال آبدوز سے فائر کیے جانے والے بلسٹک میزائل کے تین تجربات کر چکا ہے۔

ان تمام تجربات کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ناکام ہو گئے تھے اگرچہ شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی اس کے برعکس دعویٰ کرتی ہے اور مبصرین کا ماننا ہے کہ ماضی میں کیے گئے تجربا ت کی وڈیوز کو ایسے تبدیل کیا گیا کہ یہ تجربات کامیاب دکھائی دیں۔

XS
SM
MD
LG