رسائی کے لنکس

سلامتی کونسل کا شام میں امداد پہنچانے کا مطالبہ


دمشق میں یرموک فلسطینی کمیپ میں مقیم افراد امداد لینے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔ فائل فوٹو

دمشق میں یرموک فلسطینی کمیپ میں مقیم افراد امداد لینے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔ فائل فوٹو

قرارداد میں حکومت کی اجازت کے بغیر سرحد پار امدادی سامان کی ترسیل کی مدت میں 10 جنوری 2017 تک توسیع کر دی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام میں تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ زدہ علاقوں میں فوری طور پر خوراک، ادوات اور دیگر اشد ضروری انسانی امداد جانے دیں۔

منگل کو 15 رکنی کونسل نے متفقہ طور پر قراردار منظور کرتے ہوئے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ شام میں جنگ کے فریقین نے اس سے قبل اقوام متحدہ کے مطالبات کو نظر انداز کر دیا اور ملک میں تشدد میں اضافے پر ’’غم و غصے‘‘ کا اظہار کیا۔

قرارداد میں حکومت کی اجازت کے بغیر سرحد پار امدادی سامان کی ترسیل کی مدت میں 10 جنوری 2017 تک توسیع کر دی گئی ہے۔

اس قرارداد کا ہدف شامی حکومت، داعش، النصرہ فرنٹ اور القاعدہ سے وابستہ جنگجو تھے۔

کونسل نے ’’تشدد، بدسلوکی، صوابدیدی سزائے موت، ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کے وسیع پیمانے پر استعمال اور جنسی اور صنفی بینادوں پر تشدد اور بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور استحصال‘‘ کی مذمت کی۔

کونسل کے مطابق جن افراد کو خوراک اور طبی مدد کی ضرورت ہے ان میں سے 65 لاکھ افراد بے گھر ہیں، فلسطینی مہاجرین سمیت 45 لاکھ افراد ایسے علاقوں میں ہیں جہاں رسائی بہت مشکل ہے جبکہ چار لاکھ کے قریب افراد ان علاقوں میں محصور ہیں جہاں لڑائی جاری ہے۔

منگل کی صبح جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سربراہ مائیکل مولر نے کہا کہ وہ اگلے ماہ شام کے امن مذاکرات کی میزبانی کریں گے۔ انہوں نے اس کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا مگر کہا کہ جنوری کے آخر تک مذاکرات متوقع ہیں۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کی سرپرستی میں مذاکرات کے دو دور منقعد کیے جا چکے ہیں مگر ان میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

XS
SM
MD
LG