رسائی کے لنکس

اقوام متحدہ نے ہفتے کے روز یمن کی سنی حکومت اور شیعہ حوثی باغیوں کے درمیان امن بات چیت کو معطل قرار دیا ہے، جس سے قبل باغیوں نے اپنا یکطرفہ منصوبہ پیش کیا جس میں اُن علاقوں میں انتظامی کونسل تعینات کرنے کے لیے کہا گیا تھا جہاں 2014ء میں لڑائی چھڑی تھی۔

اقوام متحدہ کے ایلچی برائے امن، اسماعیل ولد الشیخ احمد نے ہفتے کے روز کویت میں مذاکرات کو معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئندہ ہفتوں کے دوران دونوں فریق کے مذاکرات کاروں کے ساتھ علیحدہ ملیں گے، تاکہ جزیرہ نما عربستان میں امن کے قیام کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے پیش کردہ منصوبے کے کلیدی نکات پر سمجھوتا طے پا سکے۔

الشیخ احمد نے کہا کہ ’’سب سے بڑی دقت جو ہمیں درپیش ہے وہ دونوں فریق کے مابین اعتماد کی کمی کا معاملہ ہے، اور اس ضمن میں، ہم نے ذہن اس بات پر مرکوز کر رکھا ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو رعایتیں دینے پر رضامند ہوں‘‘۔

ایلچی نے دونوں فریق سے کہا کہ وہ اعتماد سازی کے اقدامات کا سلسلہ جاری کریں، اور یکطرفہ اقدام سے اجتناب کریں۔

احمد نے کہا کہ ’’کویت سے جاتے ہوئے ہم (امن) کے کسی اعلان تک نہیں پہنچ پائے، لیکن میں دوبارہ عرض کروں کہ ہماری سمت درست ہے‘‘۔

اُنھوں نے حالیہ بات چیت کو ناکامی سے تعبیر کرنے سے انکار کیا، حالانکہ امن کی جانب کوئی خاص پیش رفت حاصل نہیں ہوسکی۔ اور مزید کہا کہ حوثی انتظامی کونسل تشکیل دینے کی تجویز یمن یا خود امن عمل کے مفاد میں نہیں۔
مزید مذاکرات کے لیے کسی تاریخ کا مقام کا اعلان نہیں کیا گیا۔ تاہم، ایلچی نے کہا ہے کہ یہ ایک ماہ کے اندر شروع ہوسکتے ہیں۔

گذشتہ برس اقوام متحدہ امن بات چیت کے دو دور کی سرپرستی کر چکا ہے۔ لیکن، جنوری میں مذاکرات ناکام ہوئے، جس کا سبب گھمسان کی لڑائی چھڑنا تھا جو کئی ہفتوں تک جاری رہی۔ اب لڑائی تھم چکی ہے، لیکن اپریل میں کویت بات چیت کے آغاز کے بعد لڑائی پھر سے شروع ہو چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG