رسائی کے لنکس

شام کے 30 لاکھ شہری ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے: اقوام متحدہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق مارچ 2011ء سے اب تک شام کی کل آبادی میں سے پچاس فیصد کو اپنا گھر چھوڑنا پڑا، جن میں سے نصف تعداد بچوں کی ہے۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے باعث 30 لاکھ سے زائد افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور اس صورتحال کو موجودہ دور کا ’’سب سے بڑا انسانی بحران قرار دیا۔‘‘

جمعہ کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق صرف گزشتہ ایک سال میں 10 لاکھ افراد نے شام چھوڑا جسے ایک ’’ہولناک صورت حال قرار دیا گیا۔‘‘

بیان کے مطابق ان میں وہ لاکھوں افراد شامل نہیں جنہوں نے بطور پناہ گزین اپنا اندارج نہیں کروایا۔

اقوام متحدہ کے مطابق 65 لاکھ افراد ایسے ہیں جو شام کے اندر ہی اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق مارچ 2011ء سے اب تک شام کی کل آبادی میں سے پچاس فیصد کو اپنا گھر چھوڑنا پڑا، جن میں سے نصف تعداد بچوں کی ہے۔

شام سے زیادہ تر پناہ گزین لبنان، ترکی یا اردن منتقل ہوئے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے ہائی کمشنر انتونیو گیوٹرس نے کہا کہ دنیا ’’پناہ گزینوں اور ان افراد کی میزبانی کرنے والے ممالک کی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔‘‘

عالمی تنظیم کے مطابق شام کے پناہ گزینوں کے لیے اسے رواں سال کے اواخر تک دو ارب ڈالر ضرورت ہیں۔

XS
SM
MD
LG