رسائی کے لنکس

لیبیا سے متعلق اقوام متحدہ کے تحت مذاکرات کو 'دھچکہ'


مسلح دھڑے لیبیا ڈان کے جنگجو

مسلح دھڑے لیبیا ڈان کے جنگجو

طرابلس میں قائم پارلیمنٹ "جنرل نیشنل کانگریس" کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی شرکت کو آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دیا ہے کیونکہ اسے مشاورت کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

لیبیا میں دو حریف حکومتوں کے مابین اقوام متحدہ کی کوششوں سے ہونے والے مذاکرات کو جمعرات کو اس وقت دھچکہ لگا جب ایک فریق نے مراکش میں ہونے والی بات چیت میں یہ کہہ کر شرکت نہ کی کہ اسے مشاورت کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

گزشتہ سال لیبیا ڈان نامی مسلح اتحاد نے دارالحکومت طرابلس پر قبضہ کر کے اپنی حکومت قائم کر لی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو یہاں سے منتقل ہونا پڑا۔ اس صورتحال نے ملک میں انارکی اور تقسیم کی فضا پیدا کر رکھی ہے۔

مراکش کے ساحلی شہر صخیرات میں اقوام متحدہ کی میزبانی میں ہونے والے بات چیت کے نئے دور میں توقع تھی کہ ایک متحدہ قومی قائم کرنے سے متعلق ابتدائی کام ہو سکے گا۔

لیکن لیبیا کے لیے اقوام متحدہ مشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ "طرابلس کے وفد نے جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔"

طرابلس میں قائم پارلیمنٹ "جنرل نیشنل کانگریس" کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی شرکت کو آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دیا ہے کیونکہ اسے مشاورت کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

اس کے ترجمان عمر ہمیدان نے ٹی وی پر اپنے بیان میں کہا کہ "مسودے وہ ترامیم شامل نہیں کی گئیں جو جنرل نیشنل کانگریس نے کی تھیں۔"

اقوام متحدہ کی تجویز میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ قومی معاہدے کے تحت ایک سال کے حکومت بنائی جائے جس میں ایک وزراء کونسل ہو جس کی سربراہی ایک وزیراعظم کرے اور دو نائبین کے پاس انتظامی اختیارات ہوں۔

مزید برآں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ پارلیمنٹ قانونی سازی کرنے والا ادارہ ہوگی۔

XS
SM
MD
LG