رسائی کے لنکس

گو کہ اس بات پر تمام مندوبین متفق ہیں کہ شام میں لڑائی ہر صورت بند ہونی چاہیے لیکن اس معاملے پر شدید اختلاف برقرار ہے کہ شام کے مستقبل میں کس کا کیا کردار ہو گا۔

اقوام متحدہ میں سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ شام سے متعلق آئندہ ہفتے ہونے والے امن مذاکرات التوا کا شکار ہوسکتے ہیں کیونکہ عالمی طاقتوں کے مابین اس معاملے تکرار جاری ہے کہ شامی حزب مخالف کے کن ارکان کو دینی چاہیے۔

یہ بات چیت 25 جنوری کو جنیوا میں طے ہے لیکن ابھی تک اس بارے میں دعوت نامے ارسال نہیں کیے گئے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان حق کا کہنا ہے کہ اجلاس کے لیے 25 تاریخ ہی ابھی تک طے ہے۔

"جب سریئن سپورٹ گروپ میں شامل ممالک کی قیادت اس بات پر متفق ہو جائے گی کہ کس مخالف کو مدعو کیا جانا چاہیے تو اقوام متحدہ دعوت نامے بھیجنا شروع کرے گی۔"

صحافیوں سے گفتگو میں فرحان نے بتایا کہ "سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ان ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ سمجھوتے پر اتفاق کے لیے دگنی کوشش کریں۔"

جنیوا میں ہونے والے اجلاس میں 17 ممالک شریک ہو رہے ہیں جن میں امریکہ اور روس بھی شامل ہیں جو کہ شام کی خانہ جنگی میں دو مختلف فریقوں کے حامی ہیں۔ ان میں سعودی عرب اور ایران بھی شریک ہیں جو خطے کو دو حریف طاقتیں ہیں۔

اس اجلاس کا مقصد شام میں ایک عبوری حکومت کا قیام ہے جس سے توقع ہے کہ ملک میں جمہوریت کی واپسی کی راہ ہموار ہو گی۔

گو کہ اس بات پر تمام مندوبین متفق ہیں کہ شام میں لڑائی ہر صورت بند ہونی چاہیے لیکن اس معاملے پر شدید اختلاف برقرار ہے کہ شام کے مستقبل میں کس کا کیا کردار ہو گا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ صدر بشار الاسد جو کہ اپنے ہی لوگوں پر مظالم ڈھاتے رہے ہیں، شام کے مستقبل میں ان کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔ صدر اسد کے طاقتور ترین حلیف روس کا موقف ہے کہ اس بات کا فیصلہ شام کے عوام پر منحصر ہے۔

بعض شامی حزب مخالف قدرے زیادہ اعتدال پسند ہیں جب کہ حکومت تمام مخالفین کو "دہشت گرد" قرار دیتی ہے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے پیر کو "سی این این" کو بتایا تھا کہ وہ شام سے متعلق کوئی وعدہ تو نہیں کر سکتے لیکن ان کے بقول اس ملک میں سیاسی مفاہمت کا واحد راستہ جنیوا کانفرنس ہی ہے۔

XS
SM
MD
LG