رسائی کے لنکس

تبت کا ایک سرگرم کارکن جوتقریباً ایک ماہ سے اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ نیویارک میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر اپنے مطالبات کے حق میں بھوک ہڑتال کیے ہوئےتھا، منگل کے روز اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد بھی اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہے۔

تبتن یوتھ کانگریس نے اپنی ایک پریس ریلز میں کہا ہے کہ تبت نژاد امریکی کارکن دورجی گیالپو کو بھوک ہڑتال کے اپنے 27 ویں روز حالت بگڑنے پر پولیس نے طبی امداد حاصل کرنے پر مجبور کیا۔

گیالپو اور اس کے دوتبتی ساتھی تبت کے علاقوں میں انسانی حقوق اور لوگوں کو میسر آزادی کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے وہاں اقوام متحدہ کا مشن بھیجنے کے اپنے مطالبے کیے بھوک ہڑتال کیے ہوئے ہیں۔

گیالپو منگل کے روز اسپتال میں زیر علاج رہے اور ان کے ڈاکٹر ایلن کیلر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 59 سالہ سرگرم کارکن کچھ کھانے سے مسلسل انکار کررہاہے۔ لیکن اسے رگوں میں انجکشن کے ذریعے کچھ مائع دیا جارہاہے۔

ڈاکٹر کیلر کا کہناتھا کہ گیالپو اپنی عمر کی بنا پر بطور خاص خطرے میں ہے۔ ان کا کہناتھا کہ وہ اور بھوک ہڑتال میں شریک ان کے دو ساتھیوں کی حالت خطرے کی نشان تک پہنچ چکی ہے۔

اس ماہ کے شروع میں گیالپونے وائس آف امریکہ کو بتایا تھا کہ وہ تبتن یوتھ کانفرنس کے ان مطالبوں کی خاطر، جو انہوں نے ایک خط کی شکل میں اقوام متحدہ کو بھیجی ہیں، اپنی زندگی قربان کرنے کے لیے تیار ہے۔

XS
SM
MD
LG