رسائی کے لنکس

یمنی فریقین امن مذاکرات کی طرف واپس آئیں: اقوام متحدہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

یمن میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی جمال بن عمر نے خبردار کیا ہے کہ حالات ملک کو ’’خانہ جنگی کے دہانے‘‘ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

یمن کے شہر تعز پر شیعہ حوثی باغیوں کے قبضے کے بعد اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی سفیر سمانتھا پاور نے اتوار کو یمن میں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کی طرف واپس آئیں۔

سمانتھا پاور نے یمن کی صورتحال پر بحث کے لیے بلائے گئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے بعد یہ بیان دیا۔

انہوں نے کہا کہ حوثیوں کی کارروایئوں نے ’’یمن کے عبوری دور کو تسلسل کے ساتھ نقصان پہنچایا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سلامتی کونسل نے صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حمایت کی تجدید کی ہے۔

سمانتھا پاور نے کہا کہ ’’یمن کے دارالحکومت صنعا پر دھاوا بول کر حکومتی اداروں پر قبضہ کر کے یک طرفہ اعلانِ حکومت کے بعد یہ حملے حوثیوں کی طرف سے کی جانے والی پر تشدد کارروائیوں میں تازہ ترین اضافہ ہیں۔ یمن کی سلامتی، استحکام اور وحدت کی حفاظت کے لیے تمام فریقین کو مزید یک طرفہ اور جارحانہ کارروائیوں سے گریز کرنا چاہیئے۔‘‘

یمن میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی جمال بن عمر نے خبردار کیا ہے کہ حالات ملک کو ’’خانہ جنگی کے دہانے‘‘ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

ہفتے کی شب صدر منصور ہادی کے مخالف حوثی لشکروں نے تعز کے فوجی ائیرپورٹ پر مقامی حکام کی طرف سے بغیر کسی مزاحمت کے قبضہ کر لیا تھا۔

انہوں نے اتوار کو تعز شہر کے کچھ حصوں میں گشت کیا جبکہ مسلحہ حوثیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی۔

شہر پر قبضے کے چند گھنٹے بعد باغیوں کے سربراہ عبدالمالک الحوثی نے کہا کہ وہ جنوب میں اپنے جنگجو بھیجیں گے جہاں صدر ہادی نے پناہ لے رکھی ہے۔ ایک ٹیلی وژن تقریر میں عبدالمالک الحوثی نے کہا کہ ہادی عالمی اور علاقائی طاقتوں کے ہاتھ میں ایک کٹھ پتلی ہے جو یمن میں ’’لیبیائی ماڈل لانا چاہتا ہے۔‘‘

عبدالمالک الحوثی نے امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب اور قطر کا نام لے کر کہا کہ یہ ممالک یمن اور علاقے کے دوسرے ممالک کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔

باغیوں کے زیر قبضہ دارالحکومت صنعا میں دو مساجد پر خودکش بم حملوں کے ایک دن بعد امریکہ نے یمن سے اپنے تمام اہلکاروں کو ہفتے کے روز واپس بلا لیا تھا۔ بم حملوں میں137افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

صدر ہادی نے تعز سے 180 کلومیٹر جنوب میں واقع عدن شہر میں پناہ لے رکھی ہے جہاں انہوں نے صنعا میں نظربندی سے گزشتہ ماہ فرار کے بعد پہلا ٹیلی وژن خطاب کیا۔

منصور ہادی نے حوثی باغیوں سے کہا کہ وہ وزارتوں کا قبضہ چھوڑ دیں اور اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں ہونے والے امن مذاکرات کی طرف واپس آئیں۔

XS
SM
MD
LG