رسائی کے لنکس

اسرائیل مخالف مجوزہ قرار داد پر رائے شماری ملتوی


فائل فوٹو

نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق "امریکہ کا طویل عرصہ تک یہ موقف رہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن صرف فریقین کے درمیان براہ راست بات چیت سے ہی ہو سکتا ہے۔۔۔''

مصر نے اقوام متحدہ سے اس مجوزہ قرار داد پر جمعرات کو ہونے والی رائے شماری کو "غیر معینہ مدت" تک ملتوی کرنے کے لیے کہا ہے جس میں فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں تعیمر کے خاتمہ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

مصر ہی کی طرف سے پیش کردہ اس مجوزہ قرار داد پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں رائے شماری کے لیے ایک اجلاس جمعرات کو طے تھا۔

امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نے اوباما انتظامیہ پر اس قرار داد کو ویٹو کرنے پر زور دیا تھا جس میں فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی تعمیر کو روکنا شامل تھا۔

اس مجوزہ قرارداد کے مطابق موجودہ بستیوں کا "کوئی قانونی جواز نہیں ہے" اور یہ بین الاقوامی قانون کی "کھلی خلاف ورزی ہے۔"

نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق "امریکہ کا طویل عرصہ تک یہ موقف رہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن صرف فریقین کے درمیان براہ راست بات چیت سے ہی ہو سکتا ہے نا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے عائد کردہ شرائط کے تحت۔"

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسا اقدام "اسرائیل کو مذاکرات کے حوالے سے ایک خراب صورت حال میں لا کھڑا کرتا ہے اور یہ تمام اسرائیلیوں کے لیے انتہائی غیر منصفانہ ہے ۔"

امریکہ ایک ایسی ہی قرار داد کو 2011 میں ویٹو کر چکا ہے تاہم امریکی نشریاتی ادارے 'این بی سی نیوز' نے متعدد ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکہ کا اس قرارداد کو ویٹو کرنے کا ارادہ تھا جو جمعرات کو ملتوی کر دی گئی۔

تاہم محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ "ہم ایسے کام کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں کہ قابل عمل دو ریاستی حل کا مقصد حاصل ہو۔۔۔''

XS
SM
MD
LG