رسائی کے لنکس

کانگو میں حکام کا کہنا ہے کہ لاوارث لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کرنا یہاں کوئی غیر معمولی بات نہیں جس کا مقصد کنشاسا کے مردے خانے سے ان لاشوں کو ہٹا کر جگہ خالی کرنا ہوتا ہے۔

جمہوریہ کانگو میں اقوام متحدہ کے مشن نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ گزشتہ ماہ ایک اجتماعی قبر میں دفن کی گئی 400 سے زائد لاشوں کو وہاں سے نکالے۔

کنشاسا میں حکام کا کہنا تھا کہ انھوں نے مالوکو قصبے میں 19 مارچ کو 421 لاشوں کو دفن کیا۔ حکومت کے مطابق ان میں لاوارث لاشیں، مردہ پیدا ہونے والے بچے اور شہر کے مردے خانے میں رکھے بے گھر افراد کی لاشیں شامل تھیں۔

تاہم اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کو شبہ ہے کہ ان میں کچھ لاشیں ان لوگوں کی ہو سکتی ہیں جو جنوری میں حکومت مخالف مظاہروں یا پھر کنشاسا میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی میں مارے گئے۔

کانگو میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے مشترکہ دفتر کے ڈائریکٹر جوش ڈی ماریا اراناز نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ "ہم نے قبرکشائی کی تجویز دی ہے لیکن یہ حکام پر منحصر وہ مقامی آبادی کے تحفظات اور افواہیں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرے۔"

وزیر انصاف الیکس تھامبوی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ اگر اقوام متحدہ کے حکام یا امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کہیں گے تو حکومت قبر کشائی کرنے کو تیار ہے۔

کانگو میں حکام کا کہنا ہے کہ لاوارث لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کرنا یہاں کوئی غیر معمولی بات نہیں جس کا مقصد کنشاسا کے مردے خانے سے ان لاشوں کو ہٹا کر جگہ خالی کرنا ہوتا ہے۔

اراناز کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کا مشن کانگو کے تفتیش کاروں کو تمام ضروری سامان فراہم کرنے میں مدد دے گا اور ساتھ ہی وہ اپنے طور پر بھی تحقیقات کرے گا۔

ان کے بقول ان کے دفتر نے حکام سے ان لاشوں سے متعلق تمام دستاویزات بشمول ڈیتھ سرٹیفیکیٹس فراہم کرنے کا کہا تھا لیکن اب تک کچھ بھی مہیا نہیں کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG