رسائی کے لنکس

اقوام ِ متحدہ کے تخمینے کے مطابق، رواں برس عراق میں جنوری کے بعد سے تقریباً 19 لاکھ افراد داعش کی کارروائیوں کے باعث اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے

اقوام ِمتحدہ نے عراق کے اُن بے گھر افراد کے لیے17 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی امداد کی اپیل جاری کی ہے، جو عراق میں شدت پسند گروپ دولت ِاسلامیہ کی کارروائیوں کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

اقوام ِمتحدہ کی جانب سے یہ اپیل موسم ِسرما آنے سے قبل عراق کے بے گھر افراد کو امدادی سامان مہیا کرنے کی غرض سے کی گئی ہے۔

اقوام ِ متحدہ کے تخمینے کے مطابق، رواں برس عراق میں جنوری کے بعد سے تقریباً19 لاکھ افراد دولت ِاسلامیہ کی کارروائیوں کے باعث اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ ان بے گھر افراد کی اکثریت اپنے گھروں سے نکلتے وقت بہت مختصر سامان ہی اپنے ہمراہ لے سکی تھی۔

عراق میں بے گھر ہونے والے افراد کی نصف تعداد عراق میں کُردستان کے خطے میں پناہ گزیں ہوئی ہے۔

کُردستان ایک پہاڑی علاقہ ہے جہاں پر سردیوں میں درجہ ِحرارت نقطہ ِانجماد سے بھی نیچے گر جاتا ہے۔

اقوام ِمتحدہ کی امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بے گھر افراد کی بڑی تعداد کے پاس آنے والے موسم ِسرما سے نمٹنے کے لیے کوئی سامان موجود نہیں ہے اور ان بے گھر افراد کے لیے سردی کی سختیاں جھیلنا بہت مشکل ہوگا۔

اقوام ِمتحدہ میں انسانی حقوق کے ادارے سے منسلک جینس لئیرک کا کہنا ہے کہ، ’عراق میں سردی زور پکڑ رہی ہے۔ عراق کے بہت سے مختلف حصوں میں، بے گھر افراد کو پہلے ہی شدید بارشوں، تیز ہواؤں، طوفانوں اور کم درجہ ِحرارت کا سامنا ہے۔ یہ صورتحال رات کے وقت مزید خراب ہو جاتی ہے خاص طور پر کُردستان کے پہاڑی علاقوں میں‘۔

اقوام ِ متحدہ کا کہنا ہے کہ امدادی ادارے عراق کے بے گھر افراد کو موسم ِسرما کی شدت سے بچانے کے لیے خیمے، گرم کپڑے، خوراک اور صحت ِعامہ کی سہولتیں مہیا کریں گے۔

XS
SM
MD
LG