رسائی کے لنکس

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کی ترجمان روینا شامداسانی کہتی ہیں کہ عدن، ضالع اور مارب کے شہروں میں لڑائی کے لیے بچوں کو بھرتی کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق ادارے کے سربراہ نے متنبہ کیا ہے کہ یمن میں عام شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے کچھ حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں کے دوران یمن میں 736 افراد ہلاک اور 2719 زخمی ہو چکے ہیں اور انسانی حقوق کے دفتر کے اندازوں کے مطابق ان میں نصف ہلاکتیں اور ایک تہائی زخمی ہونے والے عام شہری ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یمن میں حوثیوں اور صدر ہادی کے اتحادی مسلح گروپوں کے درمیان جاری لڑائی اور 26 مارچ کو سعودی عرب کی زیرقیادت اتحادیوں کی فضائی کارروائیاں شروع ہونے کے بعد ایک لاکھ بیس ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کی ترجمان روینا شامداسانی کہتی ہیں کہ یمن کی گلیوں میں لڑائی میں شدت آچکی ہے۔ ان کے بقول عدن، ضالع اور مارب کے شہروں میں لڑائی کے لیے بچوں کو بھرتی کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

"ہر گھنٹے ہمیں شہریوں کی زندگی اور بنیادی ڈھانچے پر لڑائی کی وجہ سے ہونے والے نقصان کی پریشان کن اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ ہائی کمشنر نے متنبہ کیا ہے کہ اس حد تک شہری ہلاکتیں تمام فریقین کے لیے واضح اشارہ ہے کہ اس بارے میں سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔"

شامداسانی کا مزید کہنا تھا کہ لڑائی میں شریک تمام فریقوں کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی ہر صورت پاسداری اور شہری آبادی کا تحفظ کرنا چاہیے۔ ان کے بقول حالیہ دنوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ان قوانین کی خلاف ورزیاں کی جاتی رہی ہیں۔

ترجمان نے اتحادیوں کی متعدد فضائی کارروائیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان میں رہائشی علاقوں میں شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ گزشتہ تین ہفتوں میں 52 شہری عمارتوں کو فضائی حملوں، گولہ باری یا زمینی حملوں کے دوران تباہ کیا گیا۔

"ہائی کمشنر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسپتال اور ایمبولینسز ان حملوں میں محفوظ رہیں اور انھیں ہر وقت کام کرنے کی اجازت ہو۔"

اقوام متحدہ کے اس دفتر کے مطابق ایسی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں کہ حوثیوں سے منسلک فورسز مظاہرین اور ذرائع ابلاغ کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ ادارے کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قوانین کی کسی بھی طرح کی خلاف ورزی کی فوری تحقیقات کی جائیں۔

XS
SM
MD
LG