رسائی کے لنکس

بچوں کے تیار کردہ جدید روبوٹس کا مقابلہ


بچوں کے تیار کردہ جدید روبوٹس کا مقابلہ

بچوں کے تیار کردہ جدید روبوٹس کا مقابلہ

جدید ٹیکناجی نےالیکٹرانک آلات سے لے کر بڑے بڑے بحری جہازوں کی تیاری تک، ہر شعبے میں روبوٹس کے استعمال میں اضافہ کر دیا ہے۔دلچسپی کی بات یہ ہے کہ روبوٹس صرف جدید فیکٹریوں میں ہی تیار نہیں کیے جارہے بلکہ کئی بچے اپنے اسکولوں کی لیبارٹریوں میں بھی روبوٹس بنارہے ہیں۔ حال ہی میں ریاست ٹیکساس کے شہر ہوسٹن میں بچوں نے ایسے روبوٹس پیش کیےجو غوطہ خوروں کی طرح پانی کے نیچے بھی کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

طالب علموں نے کئی مہینوں کی محنت کے بعد روبوٹ بنائے تھے۔ آخر انہیں پانی میں اتارنے کا وقت آ گیا۔

مقابلے کی شرائط کے مطابق ٹیمیں اپنے بنائے ہوئے روبوٹ کو سمندر کے نیچے نہیں دیکھ سکتیں ۔ انہیں ان تصاویر پر انحصار کرنا تھا جو یہ روبوٹ بھیج رہے ہیں۔ مگر سمندر کے نیچے ان روبوٹس کا کام کرتے رہنا کوئی معمولی بات نہیں، مقابلے میں ان روبوٹس نے بہت کچھ کر کے دکھانا ہوتا ہے جیسے کسی چیز کو سمندر میں سے اٹھانا اور اسے ہلانا وغیرہ۔

ان روبوٹس کے عمل کو دیکھنے کے لیے ناسا کے زیر سمندر کیمرے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ وہ کیمرے ہیں جو خلا بازوں کی زیر سمندر تربیت میں کام آتے ہوتے ہیں۔ اسی پول کے اندر ناسا کے سپیس سٹیشن کا ایک ڈھانچا بھی رکھا ہوا ہے۔ جس پر خلا باز ایسے حالات میں کام کرنے کی تربیت حاصل کرتے ہیں جب کشش ثقل صفر ہوتی ہے۔

یہ روبوٹ بنانے میں طالب علموں کو بہت محنت کرنا پڑی۔ روبوٹ بنانے والی ایک ٹیم میں سب سے کم عمر بارہ سالہ یومی تاگ ہیں۔ ان کا تعلق ہانگ کانگ کے چائنیز انٹرنیشنل اسکول سے ہے۔

مقابلہ جیتنے والی ٹیم کا تعلق ریاست کیلی فورنیا کے جیسوٹ ہائی اسکول سے تھا۔ ان کے استاد رولف کونسٹاڈ کہتے ہیں کہ طالب علموں نے بڑی محنت سے روبوٹ تیار کیاتھا۔

اس مقابلے کو ریاست کیلی فورنیا کے میرین ایڈوانسڈ ٹکنالوجی ایجوکیشن سینٹر نے اسپانسر نےکیا۔

پچھلے سال خلیج میکسیکو میں ہونےو الے تیل کے اخراج کے بعدپانی میں کام کرنے والے روبوٹس کو ساری دنیا میں پہچانا جانے لگا ہے۔ ان روبوٹس کی تیاری کا مقابلہ شروع کرنے والوں میں سے ایک تھے میرین ٹکنالوجی سوسائٹی کے ڈریو مائیکل۔ وہ ہر روبوٹ کا پانی میں اترنے سے پہلے معائنہ کرتے ہیں۔

ان کا کہناہے کہ روبوٹس کو سمندر میں اتارنا انسانی آبدوز کے مقابلے میں زیادہ کار آمد ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ پانی کے روبوٹس یا ROVsچھ کلو میٹر کی گہرائی تک جا سکتے ہیں۔

سمندری تحقیق میں ان روبوٹس کا استعمال عام ہے اور تیل کی صنعت اس سلسلے میں سب سے آگے ہے۔ اس کے بعد مواصلات کا نظام جس میں ان روبوٹس کو سمندر کےنیچے بچھے کیبلز کی مرمت کے لیے استعمال کیا جا تا ہے۔ ڈریو سمجھتے ہیں کہ یہ مقابلہ بہت سےطالب علموں کو میرین روبوٹکس کے شعبے میں ملازمت حاصل کرنے میں بھی مدد دے گا۔

XS
SM
MD
LG