رسائی کے لنکس

امریکی معیشت میں بہتری کے باوجود بے روزگاری میں اضافہ


امریکی معیشت میں بہتری کے باوجود بے روزگاری میں اضافہ

امریکی معیشت میں بہتری کے باوجود بے روزگاری میں اضافہ

یہ خبر تو آپ نے سن ہی لی ہوگی کہ یورپی یونین ملکوں کے وزرائے مالیات کی جانب سے عالمی مالیاتی فنڈ کے تعاون سے ڈالر یعنی 750 ارب یوروکے بڑے سٹیبلائزیشن پیکیج پر اتفاق کے بعد یورپی مارکیٹس میں تیزی دیکھنے میں آئی ۔اس سٹیبلائزیشن پیکیج کے تحت دیئے جانے والے دوطرفہ قرضے اور قرضوں کی ضمانتوں کا مقصد یونان کے مالیاتی بحران کے اثرات سے ان یورپی ملکوں کو بچانا ہے جہاں یورو استعمال ہوتا ہے ۔لیکن دوسری طرف یہاں امریکہ میں معیشت کی صورتحال میں بہتری کا اندازہ اپریل کے مہینے میں امریکہ میں پیدا ہونےو الے روزگار کے نئے مواقعوں سے لگایا جا رہا ہے ۔

عالمی معیشت کی صورتحال جہاں بگڑتی نظر آرہی ہے وہاں امریکی معیشت میں بہتری کی علامات طاہر ہونا شروع ہو گئی ہیں ۔ امریکی محکمہ محنت کی جاری کردہ تازہ رپورٹ بتاتی ہے کہ امریکہ کی روزگار منڈی میں گزشتہ مہینے دو لاکھ 90 ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں ۔جو گزشتہ چار برسوں میں ریکارڈ کیا جانے والا سب سے بڑا اضافہ ہے ۔مگر دلچسپی کی بات بے روزگاری کے 9.9 کے تناسب میں ریکارڈ کیا گیا چند پوائنٹس کا اضافہ بھی ہے ۔

بیورو آف لیبر سٹیٹسکس کے کیتھ ہال کہتے ہیں کہ ہم جاب مارکیٹ میں گزشتہ چار ماہ سے مسلسل اضافہ ریکارڈ کر رہے ہیں ۔اور پچھلے دو ماہ سے ٹھوس پیش رفت دیکھ رہے ہیں ۔

امریکی محکمہ محنت کے مطابق جہاں صارفین اب زیادہ خرچ کر رہے ہیں وہاں مصنوعات ساز ادارے، تعمیراتی کمپنیاں ، پرچون فروش اور خدمات کا شعبہ نئی ملازمتیں پیدا کر رہا ہے ۔جبکہ گزشتہ تین ماہ کے دوران نئے روزگار کے اعدادو شمار کے مطابق صورتحال ابتدائی اندازوں سے زیادہ اچھی رہی ہے ۔صدر اوباما نے محکمہ محنت کی رپورٹ کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ ایک سال پہلے کی معیشت کی صورتحال پر نظر ڈالیں تویہ تعداد بہت ہی مثبت ہے۔

اپنے بد ترین معاشی بحران کے دنوں میں امریکی معیشت ایک مہینے میں ساڑھے سات لاکھ ملازمتوں میں کٹوتیاں کر رہی تھی مگر اب بھی روزگار کی بہتر رپورٹ کے باوجود اپریل میں امریکہ میں بے روزگاری کا تناسب کچھ پوائٹ اوپر گیا ہے ۔ ماہرین معاشیات اس کی وجہ ان امریکیوں کا دوبارہ ملازمتیں ڈھونڈنے کے لئے نکلنا بتاتے ہیں ،جنہوں معیشت کی ابتری کے دنوں میں کام ڈھونڈنا ہی بند کر دیا تھا ۔

یوبی ایس اکانومنسٹ کے ماؤری ہیرس کہتے ہیں کہ مبصرین کو شاید بے روزگاری کا تناسب اوپر جاتا نظر آرہا ہو مگر امریکی گھرانوں کے ایک سروے کے مطابق نوکریوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ اصل چیزہے ماہانہ تنخواہ آنے کا یقین اور بڑے کاروباری اداروں کا اعتماد ہے جو اب نئے لوگوں کو کام پر رکھ رہے ہیں ۔

امریکہ میں صرف وہ لوگ بے روزگار کہلاتے ہیں جو سرگرمی سے ملازمت ڈھونڈ رہے ہوں ، جس کا مطلب ہے کہ ملازمت ڈھونڈنے والوں کی تعداد میں اضافہ بےروزگاری کی سالانہ شرح میں اضافہ کر سکتا ہے ۔ مگر اب بھی ان امریکیوں کی تعداد جو کام کی تلاش چھوڑ چکے ہیں یا جزوقتی نوکری کے خواہشمند ہیں ، 17 فیصد کی ریکارڈ سطح پر ہے ،جس کا مطلب اپریل کے مہینے تک 15 ملین یعنی ڈیڑھ کروڑ امریکی بے روزگار تھے ۔

XS
SM
MD
LG