رسائی کے لنکس

یونیسکو کی ڈائریکٹرجنرل نے اِس بات پر زور دیا کہ ان صحافیوں کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام کوششیں بروئے کار لائی جانی چاہئیں

یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل آئیرینا نکووا نےدو پاکستانی صحافیوں طارق کمال اور مرتضیٰ رضوی کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے ملک میں صحافیوں کی سلامتی کو لاحق خطرات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

جمعے کو جاری ہونے والے ایک بیان میں طارق کمال اور مرتضیٰ رضوی کے ’بہیمانہ قتل کی واضح الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے، یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل نے اِس بات پر زور دیا کہ قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام کوششیں بروئے کار لائی جانی چاہئیں۔

آئیرینا نکووا نے کہا کہ ایک ماہ کے اندر اندر یہ دوسری ہلاکتیں ہیں اور حالیہ قتل کے یہ واقعات اِس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستانی صحافی کن خطرناک حالات میں اپنے فرائض بجا لاتے ہیں۔

اُن کے بقول، صحافت کی آزادی اور شہریوں کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے، اس معاملے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

طارق کمال کراچی سے شائع ہونے والے ایک سندھی اخبار کے نامہ نگار تھے۔ وہ سات مئی سے اپنے ایک دوست کے ہمراہ لاپتا ہوگئے تھے ، جب کہ دونوں کی لاشیں نو مئی کو برآمد ہوئیں۔

کمال کے اہل خانہ کی اطلاع کے مطابق وہ تین مئی کو صوبہٴ سندھ کے ایک قصبے کے لیے روانہ ہوئے تھے، تاکہ، اُن کے بقول، وہ ایک ’خصوصی‘ خبر کے بارے میں تفصیل معلوم کرسکیں۔بعد ازاں، جب اُن کے خاندان کو اُن کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہ ہوئی، تو اُنھیں لاپتا قرار دیا گیا۔

مرتضیٰ رضوی ایک نامور کالم نویس اور سیاسی تجزیہ کار تھے جن کا تعلق انگریزی اخبار ’ڈان‘ سے تھا۔ انیس اپریل کو اُن کی لاش ملی جس پر زدو کوب کیے جانے اور اذیت رسانی کے نشانات تھے۔

سال 2002سے اب تک پاکستان میں کُل 25صحافی اور ابلاغ عامہ سے وابستہ کارکن قتل کیے جاچکے ہیں، جن میں طارق کمال اور مرتضیٰ رضوی بھی شامل ہیں۔

اُن سب کا اندراج یونیسکو کی ویب سائیٹ پر موجود ہے، جس کا عنوان ہے اُن صحافیوں کی یاد میں جنھیں قتل کیا گیا۔

سنہ 2010میں یونیسکو نے پاکستا ن کے وفاقی قبائلی علاقے کے صحافیوں کو تربیت فراہم کرنے کا بندوبست کیا، جس کا عنوان تھا تنازعہ زدہ ماحول میں رپورٹنگ، صحافت کے بے لاگ معیار، اور ساتھ ہی تنازع کے ماحول میں میڈیا کے کارکنان کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا۔

سنہ 2011 میں یونیسکو نے پاکستان کے چھوٹے قصبہ جات اور دیہی علاقوں میں رپورٹنگ اور نیوز پراڈکشن کے معیار کو فروغ دینے کی استعداد بڑھانے کے لیے ورکشاپ منعقد کیے، جن میں ریڈیو اور اخبارات سے تعلق رکھنے والے330صحافیوں نے شرکت کی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG