رسائی کے لنکس

لیبیا میں تشدد جاری، لوگ ہمسایہ ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور


طرابلس ہوائی اڈا

طرابلس ہوائی اڈا

صرف طرابلس میں، اریٹریائی اور صومالی اور دیگر اقوام سے تعلق رکھنے والے 150 سے زائد افراد انتہائی مایوسی کے عالم میں ادویات اور رہائش کے محفوظ ٹھکانے تلاش کرنے کی غرض سے ادارے کی ٹیلی فون ’ہاٹ لائن‘ پر رابطہ کر رکے ہیں: ترجمان یو این ایچ سی آر

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیں (یو این ایچ سی آر) کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ لیبیا میں مہاجرین اور سیاسی پناہ کی تلاش کے خواہاں افراد ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ایسے میں جب تشدد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، اُسے اِن افراد کے تحفظ سے متعلق تشویش لاحق ہے۔

لیزا شلائین نے ادارے کے جنیوا کے صدر دفتر سے ’وائس آف امریکہ‘ کو بھیجی گئی رپورٹ میں بتایا ہے کہ طرابلس اور بن غازی میں ’یو این ایچ سی آر‘ کے دفتر میں تقریباً 37000افراد پناہ گزیں کے طور پر درج ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیں کی ایک خاتون ترجمان، اریانا رُمیری نے کہا ہے کہ متعدد پناہ گزیں اُن آبادیوں میں مقیم ہیں جو لڑائی کے باعث بُری طرح سے تباہ حال ہیں اور جاری جھڑپوں کی وجہ سے محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے سے معذور ہیں۔

رُمیری کے بقول، صرف طرابلس میں، اریٹریائی اور صومالی اور دیگر اقوام سے تعلق رکھنے والے 150 سے زائد افراد انتہائی مایوسی کے عالم میں ادویات اور رہائش کے محفوظ ٹھکانے تلاش کرنے کی غرض سے ادارے کی ٹیلی فون ’ہاٹ لائن‘ پر رابطہ کر رکے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ، ’اِس گروپ میں وہ افراد بھی شامل ہیں جن کے بارے میں ادارے کو خصوصی تشویش لاحق ہے، اِس لیے کہ اُن کمسن بچوں کے ساتھ اُن کے اہل خانہ موجود نہیں ہیں۔ ہاں۔ ہمیںٕ متعدد شامی اور فلسطینیوں کے پیغامات بھی موصول ہو رہے ہیں، جو بن غازی کے گِرد ٹھہرے ہوئے ہیں، جو لڑائی سے زیادہ متاثر نہیں ہیں، لیکن پھر بھی اُنھیں اعانت کی سخت ضرورت ہے‘۔

دارالحکومت، طرابلس اور لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں تقریباً تین ہفتے قبل لڑائی بھڑک اُٹھی، اور ملک کشیدگی کے جال میں پھنستا جا رہا ہے۔

خوف کے شکار ہزاروں پناہ گزیں، سیاسی پناہ کی تلاش میں ہیں اور دیگر غیر ملکی باشندے جو کئی برس سے لیبیا میں مقیم ہیں، ملک چھوڑنے کے لیے بے چین ہیں، جس کے لیے وہ ہر قسم کا ہتھکنڈہ استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے۔

دریں اثنا، اسمگلنگ کے حربے تیز ہوگئے ہیں۔ ’یو این ایچ سی آر‘ نے بتایا ہے کہ اسمگلر ہزاروں لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں، کیونکہ وہ بحر اوقیانوس سے یورپ کے خطرناک بحری سفر کے نت نئے راستے اختیار کر رہے ہیں۔

رُمیری نے کہا ہے کہ حالیہ دِنوں کے دوران طرابلس میں ہونے والی لڑائی کشتیوں کے روانہ ہونے میں حائل نہیں ہوئی۔ اُن کا کہنا ہے کہ، ’بس، فرق صرف اتنا ہے کہ اب اِن کے روانگی کے راستے بدل گئے ہیں، جو جنگ و جدل کے علاقے سے مزید مشرق کی طرف پھیل چکے ہیں‘۔

’یو این ایچ سی آر‘ کی اطلاعات کے مطابق، بَری راستوں سےلیبیا سے بھاگ نکلنے کی کوشش کرنے والے ہزاروں لوگوں کی راہ میں عائد سفری پابندیاں آڑے آرہی ہیں۔ اُس نے لیبیا کے حکام پر زور دیا ہے کہ لوگوں کی آسانی کے لیے ملک چھوڑنے والوں پر ویزا پابندیاں نرم کی جائیں۔

ساتھ ہی، اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے نے مصر اور تنیسیا کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرحدیں کھلی رکھیں، تاکہ تشدد کی بنا پر بھاگ نکلنے والوں کو اور بین الاقوامی تحفظ کے خواہشمن افراد کے لیے آسانی پیدا ہو سکے۔

XS
SM
MD
LG