رسائی کے لنکس

بے وطنی کے خاتمے کے لیے ’یو این ایچ سی آر‘ کی مہم


ایک کیمپ میں آباد روہنگیا نسل کے لوگ

ایک کیمپ میں آباد روہنگیا نسل کے لوگ

"میرا تعلق" نامی اس مہم کا مقصد ان لاکھوں لوگوں کو اس قانونی حد فاصل سے نکالنا ہے جس کا وہ اس بنا پر شکار ہیں کہ ان کے پاس کوئی شہریت نہیں اور وہ تمام شہری حقوق سے محروم ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین "یو این ایچ سی آر" نے کہا ہے کہ دنیا میں کم از کم ایک کروڑ لوگ ایسے ہیں جن کا کوئی وطن نہیں ہے اور ہر دس منٹ میں ایک بے وطن بچہ پیدا ہو رہا ہے۔

ان میں سے زیادہ تر افراد کو ان ملکوں میں کسی بھی طرح کے قانونی حقوق حاصل نہیں ہیں جہاں وہ رہ رہے ہیں۔

یو این ایچ سی آر کے مطابق یہ بے وطن لوگ قانونی طور پر وجود ہی نہیں رکھتے۔ ان کی کوئی شناخت نہیں، نہ پیدائشی سرٹیفیکیٹ اور نہ دیگر دستاویزات۔ لہذا ان کی صحت عامہ، تعلیم یا قانونی طور پر روزگار تک رسائی نہیں ہے۔

بعض ملکوں میں ان بے وطن افراد کو مرنے کے بعد موت کا سرٹیفیکیٹ بھی جاری نہیں کیا جاتا۔

یو این ایچ سی آر نے منگل کو اعلان کیا کہ وہ آئندہ دس سالوں کے دوران اس صورتحال کو ختم کرنے کے لیے عالمی سطح پر مہم شروع کر رہا ہے۔

"میرا تعلق" نامی اس مہم کا مقصد ان لاکھوں لوگوں کو اس قانونی حد فاصل سے نکالنا ہے جس کا وہ اس بنا پر شکار ہیں کہ ان کے پاس کوئی شہریت نہیں اور وہ تمام شہری حقوق سے محروم ہیں۔

یو این ایچ سی آر کے کمشنر انتونیو گوٹیریس کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کے متعدد عوامل ہیں جن میں اکثر کی بنیاد نسل، مذہب یا جنس ہے۔

"میانمار میں دس لاکھ سے زائد روہنگیا نسل کے لوگ اس دائرے میں آنے والے ایسے افراد ہیں جن کے بارے سب سے زیادہ معلومات ہیں اور ان پر سب سے زیادہ بات کی جاتی ہے، ان میں سے اکثریت کو شہریت نہیں دی گئی۔"

ان کا مزید کہنا کہ "میانمار میں ان لوگوں کو بنگلہ دیش سے آئے ہوئے غیر قانونی تارکین وطن سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اگر آپ بنگلہ دیش جائیں تو وہاں انھیں میانمار سے آنے والے غیر قانونی پناہ گزین تصور کیا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ روہنگیا کی ایک قابل ذکر تعداد کے نہ تو کوئی حقوق ہیں اور نہ ہی شہریت۔"

دیگر ممالک جہاں ایسے بے وطن لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے ان میں آئیوری کوسٹ، تھائی لینڈ، لیٹویا اور ڈومینیکن جمہوریہ شامل ہیں۔

کسی ملک کے ٹکڑے ہونے سے بھی بے وطنی کی صورتحال پیدا ہوتی ہے جیسے کہ سابق سوویت یونین اور یوگوسلاویہ میں پیدا ہوئی۔

اس وقت دنیا کے 27 ممالک میں ایسے قوانین ہیں جہاں کوئی خاتون برابری کی بنیاد پر اپنے پیدا ہونے والے بچے کو شہریت منتقل نہیں کر سکتی، اور یہ بھی بے وطنی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ بغیر کسی وطن کے افراد کی تعداد میں تنازعات کے باعث بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ادارے نے اس کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وسطی افریقی جمہوریہ اور شام میں لاکھوں لوگ ملک چھوڑ کر کہیں اور پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ ہزاروں کی تعداد میں جلاوطنی میں پیدا ہونے والے بچوں کو پیدائش کا سرٹیفیکیٹ بھی جاری نہیں ہوا۔

XS
SM
MD
LG