رسائی کے لنکس

'وطن واپس جانے والے افغانوں کو 50 فیصد کم رقم دی جائے گی'


فائل فوٹو

پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی رضاکارانہ اپنے وطن واپسی کا عمل تین اپریل سے دوبارہ شروع ہو رہا ہے جس کے لیے پشاور کے قریب چمکنی کے مقام پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین "یو این ایچ سی آر" نے ایک مرکز بھی قائم کر دیا ہے۔

رضاکارانہ وطن واپسی کا سلسلہ گزشتہ سال نومبر میں موسم سرما کی وجہ سے معطل کر دیا گیا ہے۔

منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں یو این ایچ سی آر کی پاکستان میں ترجمان دنیا اسلم خان نے بتایا کہ گزشتہ سال واپس جانے والے افغانوں کو معاونت کے طور پر چار سو ڈالر فراہم کیے جاتے تھے لیکن فنڈز کی کم یابی کی وجہ سے اب اس معاونت میں پچاس فیصد کمی کر دی گئی ہے۔

"گزشتہ سال یو این ایچ سی آر کے پاس فنڈز تھے تو یہ معاونت ہم نے دو سو ڈالر سے بڑھا کر چار سو ڈالر کر دی تھی اور ہمارا ارادہ تھا کہ اگر فنڈز جمع ہو جاتے ہیں تو ہم اس معاونت کی رقم کو برقرار رکھیں گے۔ لیکن عالمی سطح پر ہی فنڈنگ میں کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہے اور اسی بنا پر اب ہم واپس جانے والے افغانوں کو دو سو ڈالر ہی ادا کر سکیں گے۔"

یہ امر قابل ذکر ہے کہ افغانستان واپس جانے والوں کو جب دو سو ڈالر دیے جاتے تھے تو ان کا موقف رہا کہ اس رقم سے وہ اپنے ملک میں زندگی دوبارہ شروع کرنے کے قابل نہیں ہوتے اور اسی بنا پر اس رقم میں اضافہ کیا گیا تھا جس کے بعد افغانوں کی وطن واپسی میں بھی قدرے تیزی دیکھی گئی تھی۔

دنیا اسلم خان نے بتایا کہ گزشتہ سال تین لاکھ 80 ہزار رجسٹرڈ افغان پناہ گزین پاکستان سے رضاکارانہ طور پر اپنے وطن واپس گئے۔ لیکن مجموعی طور پر افغانستان لوٹنے والے پناہ گزینوں کی تعداد سات لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے۔

پاکستان میں تین دہائیوں سے زائد عرصے سے تیس لاکھ سے زائد افغان پناہ گزین مقیم ہیں اور سرکاری اندازوں کے مطابق اس وقت ملک میں موجود رجسٹرڈ افغانوں کی تعداد 13 لاکھ ہے جب کہ اتنی ہی تعداد میں افغان شہری بغیر قانونی دستاویزات کے ملک کے مختلف شہروں میں رہ رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ ہی حکومت پاکستان نے اپنے ہاں مقیم افغان پناہ گزینوں کے قیام کی مدت میں رواں سال کے اواخر تک توسیع کی منظوری دی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG