رسائی کے لنکس

دنیا بھر میں پانچ کروڑ بچے بے گھر اور نقل مکانی پر مجبور ہوئے: رپورٹ


فائل

فائل

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال "یونیسف" نے بتایا ہے کہ دنیا میں لگ بھگ پانچ کروڑ بچے یا تو اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے یا پھر اندرون ملک ہی انھیں دربدری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

منگل کو جاری کی گئی اپنی ایک تازہ رپورٹ میں ''یونیسف'' کا کہنا تھا کہ دنیا میں پر تشدد واقعات کے باعث تقریباً دو کروڑ 80 لاکھ بچوں کو نقل مکانی کرنا پڑی جب کہ اتنی ہی تعداد اپنے والدین کے ساتھ بہتر زندگی کی تلاش میں گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق 2015ء تک دنیا کی آبادی کا تیسرا حصہ بچوں پر مشتمل تھا اور دنیا میں پناہ گزینوں کی کل تعداد کا نصف بھی بچوں پر مشتمل ہے جو کہ گزشتہ دہائی کی نسبت دگنی تعداد بنتی ہے۔

جنیوا میں یونیسف کے ڈائریکٹر پروگرام ٹیڈ چیبان کہتے ہیں کہ "جو چیز اہم ہے وہ یہ کہ دربدر ہونے والے بچے ہیں اور ان کے ساتھ بچوں جیسا سلوک ہی کیا جانا چاہیئے۔ یہ تحفظ کے مستحق ہیں، یہ تعلیم جیسی کئی سہولتوں کے مستحق ہیں۔"

رپورٹ کے مطابق ایک کروڑ بچے پناہ گزین ہیں اور دس لاکھ ایسے ہیں جو پناہ کے متلاشیوں میں شامل ہیں جن کی حیثیت کا تاحال تعین ہی نہیں کیا جا سکا ہے۔

تقریباً ایک کروڑ 70 لاکھ بچے تنازعات کے شکار ملکوں میں رہتے ہوئے ہی بے گھر ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ تقریباً 45 فیصد پناہ گزین بچے صرف دو ملکوں، افغانستان اور شام سے تعلق رکھتے۔

تقریباً دو کروڑ تارکین وطن بچے ایسے ہیں جو غربت اور جرائم پیشہ گروہوں کے تشدد کے باعث اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

رپورٹ کی مصنفہ ایملی گارن کا کہنا تھا کہ "دنیا کو ہر پناہ گزین بچے کی کہانی سنتی ہے تو وہ بچے کی مدد کرنے کے قابل ہوگی لیکن جب ہم لاکھوں بچوں کی بات کرتے ہیں تو یہ شدید غم و غصے کو جنم دیتا ہے اور اس بات کی ضرورت پر زور دیتا ہے کہ اس بڑھتے ہوئے مسئلے پر توجہ دی جائے۔"

رپورٹ میں بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ ان بچوں کو تحفظ، تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کرے اور حکومتوں سے اس مسئلے کا باعث بننے والی وجوہات پر توجہ دینے کا کہا۔

XS
SM
MD
LG