رسائی کے لنکس

20 کروڑ 30 لاکھ بچے تصادم سے متاثرہ علاقوں میں مقیم ہیں: رپورٹ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

رواں سال موسم گرما میں فلسطین میں 50 دنوں تک جاری رہنے والے تصادم کی وجہ سے 54 ہزار بچے بے گھر ہوئے جب کہ 538 بچے ہلاک اور 3,370 بچے زخمی ہوئے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ’یونیسف‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 20 کروڑ 30 لاکھ بچے ایسے ممالک اور علاقوں میں رہتے ہیں جو مسلح تصادم کی زد میں ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ 2014 بچوں کے لیے خوفناک سال رہا۔ یونیسف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انتھونی لیک نے کہا کہ ’’بچے دوران تعلیم اپنے کمرہ جماعت میں ہلاک کیے گئے اور جب وہ اپنے بستروں پر تھے۔ اُنھیں یتیم کر دیا گیا، اغوا کیا گیا، زبردستی بھرتی کیا گیا، جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور بطور قیدی فروخت کیا گیا۔ حالیہ یاداشت میں ایسا کبھی نہیں ہوا جس میں بچوں کو ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘

ڈیڑھ کروڑ بچے وسطی افریقین ریپبلک، عراق، جنوبی سوڈان، فلسطین، شام اور یوکرین میں پرتشدد تصادم سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو اپنے اپنے ممالک میں بے دخلی یا بطور پناہ گزین زندگی گزار رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بچوں کو اسکولوں سے اور اُن کی گھروں کو واپسی کے دوران اغوا کیا گیا جب کہ لاکھوں بچوں کو مسلح گروپوں نے بھرتی کیا۔

جب کہ تعلیم اور صحت کے مراکز پر حملوں کے علاوہ کئی علاقوں میں اسکولوں کو فوجی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔

یونیسف کی رپورٹ کے مطابق وسطی افریقن ریپبلک میں تصادم سے دو کروڑ تیس لاکھ بچے متاثر ہوئے، جن میں سے دس ہزار بچوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اُنھیں گزشتہ سال کے دوران مسلح گروپوں نے بھرتی کیا جب کہ اس ملک میں 2013 میں 430 بچوں کو ہلاک کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال موسم گرما میں فلسطین میں 50 دنوں تک جاری رہنے والے تصادم کی وجہ سے 54 ہزار بچے بے گھر ہوئے جب کہ 538 بچے ہلاک اور 3,370 بچے زخمی ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ شام میں 73 لاکھ بچے لڑائی کی وجہ سے متاثر ہوئے جن میں سے 17 لاکھ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

اقوام متحدہ کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق افغانستان، کانگو، نائیجیریا، پاکستان، صومالیہ، سوڈان اور یمن میں جاری بحرانوں کے باعث بچے مسلسل متاثر ہوتے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG