رسائی کے لنکس

یونیسیف کی شمالی کوریا میں خسرے کی وبا کی تردید


فائل فوٹو

فائل فوٹو

خسرہ کی وبا آخری مرتبہ گزشتہ سال جولائی میں پھیلی تھی۔ اس وقت یونیسیف اور شمالی کوریا کی حکومت نے متعدد کیسز کی تصدیق کی تھی۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے اس خبر کی تردید کی ہے کہ شمالی کوریا میں خسرہ کی وبا پھوٹ پڑی ہے۔

یونیسیف کے مشرقی ایشیا کے علاقائی ترجمان کرسٹوفر ڈی بونو نے وائس آف امریکہ کو فون پر بتایا کہ شمالی کوریا کی حکومت اور عالمی ادارہ صحت نے یونیسیف کو اطلاع دی ہے کہ وہاں ’’خسرے کی وبا کی کوئی خبر نہیں ملی۔‘‘

گزشتہ ہفتے وائس آف رشیا / سپتنک انٹرنیشنل نے خبر دی تھی کہ شمالی کوریا میں خسرے کی وبا پھوٹ پڑی ہے اور حکومت اس پر قابو پانے کے لیے سفر پر پابندی عائد کرنے سمیت مختلف اقدامات کر رہی ہے۔

یونیسیف کے حکام نے کہا کہ ان کا ادارہ شمالی کوریا کو اس بیماری سے بچاؤ کے ویکسین باقاعدگی سے فراہم کرتا ہے۔ اپریل سے سال کی دوسری سہ ماہی کے لیے ادارہ ویکسین فراہم کرے گا۔

ڈی بونو نے بتایا کہ ’’ہم باقاعدگی سے خسرے سے بچاؤ کے ٹیکے لگانے کا کام کرتے ہیں۔ 2014 میں یونیسیف نے چار مرتبہ ویکسین فراہم کی۔‘‘

خسرہ کی وبا آخری مرتبہ گزشتہ سال جولائی میں پھیلی تھی۔ اس وقت یونیسیف اور شمالی کوریا کی حکومت نے متعدد کیسز کی تصدیق کی تھی۔

نومبر 2006 میں اس ملک میں خسرے سے 3,000 افراد متاثر ہوئے تھے جس سے کئی اموات بھی واقع ہوئی تھیں۔ اس وبا کے نتیجے میں یونیسیف اور عالمی ادارہ صحت نے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد کو خسرے سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگائے تھے۔

یونیسیف نے کہا ہے کہ وہ 1997 سے ویکسین، لگانے کے آلات اور دوسرا ضروری سامان فراہم کر کے شمالی کوریا کو اس مرض سے بچاؤ میں مدد فراہم کر رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG