رسائی کے لنکس

یونیورسٹی کالج لندن کے سائنس دانوں کی طرف سے کی جانے والی تحقیق بتاتی ہے کہ ہماری سماعت اور بصارت محدود عصبی وسائل کو شئیر کرتی ہیں۔

کیا کسی نے کبھی آپ کو بہرا کہا ہے؟ یاد کیجئے ہو سکتا ہے کہ یہ طعنہ آپ کو اس وقت ملا ہو جب کسی نے آپ سے بات کرنے کی کوشش کی ہو مگر آپ کی پوری توجہ ٹی وی یا موبائل فون پر تھی۔

سائنس دان کہتے ہیں کہ غیر ارادی طور پر بہرہ پن کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب عام آوازوں کو سننے میں ناکام ہوتے ہیں خاص طور پر جب ہماری توجہ دوسرے کاموں پر ہوتی ہے۔

اس پر محققین کی طرف سے ایک مشاہدہ کیا گیا ہے۔ جس سے پتا چلا ہے کہ جب ہماری توجہ بصری کاموں پر ہوتی ہے تو ہم لمحہ بھر کے لیے بہرے ہو جاتے ہیں۔

یونیورسٹی کالج لندن کے سائنس دانوں کی طرف سے کی جانے والی تحقیق بتاتی ہے کہ ہماری سماعت اور بصارت محدود عصبی وسائل کو شئیر کرتی ہیں۔

ایک تجرباتی لیب مطالعے سے پتا چلا کہ توجہ طلب کاموں کو انجام دیتے ہوئے لوگ عام آوازوں کو سننے کے قابل نہیں تھے جسے عام طور پر سنا جا سکتا ہے۔

سائنسی جریدہ 'جرنل نیورو سائنس' میں شائع ہونے والے تحقیق کی مصنف نیلی لاوی اور ان کے ساتھی محققین نے نتائج کی وضاحت میں کہا کہ ہمیں سماعت کے لیے صرف کانوں کی ضرورت نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس آواز کو جواب دینے کے لیے ہمیں دماغ کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔

یو سی ایل یونیورسٹی میں نیورو سائنس کے شعبے سے وابستہ پروفیسر نیلی لاوی نے کہا کہ غیر ارادی طور پر بہرہ پن ہماری روزمرہ زندگی میں عام ہیں اور ہم سب اس کا ہر روز تجربہ کرتے ہیں۔ لیکن، اب ہم جانتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔

ڈاکٹر نیلی لاوی نتائج کی وضاحت میں مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب آپ کتاب پڑھتے ہیں یا ٹی وی دیکھتے ہیں یا پھر جب ہماری نظر اپنے موبائل فون اور کمپیوٹر کی اسکرین پر ہوتی ہے اگر اس وقت کوئی آپ سے بات کرے تو آپ اس کا جواب نہیں دیتے ہیں جس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ اس وقت آپ کا دماغ معمول کی آوازوں پر ردعمل ظاہر نہیں کر سکتا ہے یا ہمیں عارضی طور پر بہرہ کر دیتا ہے۔

مشاہدے میں اس بات کے سائنسی ثبوت ملے ہیں کہ ایک شخص کی بصارت اور سماعت کا احساس اس کے دماغ کے ایک ہی علاقے میں پایا جاتا ہے جو کہ 'ایسوسی ایشن کورٹیکس' کہلاتا ہے۔

دماغ کے اس علاقے کی صلاحیت محدود ہے لہذا یہاں ایک ساتھ کئی کام انجام دینے کے بجائے دماغ اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ اسے دیے گئے وقت میں سننا چاہیئے یا دیکھنا چاہیئے۔

اس سے قبل چھپنے والے ایک مطالعے کے نتائج سے پتا چلا تھا کہ لوگ آوازوں کو سنتے ہوئے ان کے سامنے کی اشیاء پر توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔

تاہم نئے محققین کہتے ہیں کہ جب دماغ میں بصارت ترجیح لیتی ہے تو وہاں عالمی بہرہ پن جنم لیتا ہے۔

اس نتیجے تک پہنچنے کے لیے تحقیق دانوں نے 13 لوگوں کو ایک ٹاسک کی انجام دہی کے لیے کہا جس میں شرکاء سے کہا گیا کہ وہ موسیقی سنتے ہوئے کمپیوٹر اسکرین پر ظاہر ہونے والے خاص الفاظوں کو دیکھ کر بٹن دبائیں۔

یہ پہلا مطالعہ تھا جس میں دماغ کی سرگرمیوں کی پیمائش کے لیے میگ (میگنیٹو اینسیفو لوگرافی) کا استعمال کیا گیا۔

دماغ کی اسکینگ کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ جب بصری ٹاسک آسان تھا تو شرکاء آواز کا پتا لگا سکتے تھے۔

لیکن جب یہ ٹاسک پیچیدہ تھا تو ان کے دماغ کا جواب نمایاں طور پر کم تھا۔

شریک مصنف ڈاکٹر ماریا چیت نے کہا کہ دماغ کے اسکین سے اس بات کی نشاندہی ہوئی کہ ٹاسک کے دوران لوگ نا صرف ان آوازوں کو نظر انداز یا فلٹر کر رہے تھے بلکہ وہ پہلی مرتبہ میں ان آوازوں کو اصل میں سن بھی نہیں رہے تھے۔

محققین کے مطابق اگرچہ نتائج بے ضرر معلوم ہوتے ہیں لیکن ممکن ہے کہ راہ گیروں کے لیے یہ خطرناک ثابت ہوں جو کہ راستوں پر چلتے ہوئے موبائل فون دیکھتے ہیں۔

پروفیسر نیلی لاوی نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ سوچ سکتے ہیں کہ دوسرا شخص آپ کو نظر انداز کر رہا ہے جبکہ اس کا دماغ آپ کی آواز کے جواب میں ردعمل ظاہر کرنے کے قابل نہیں ہوتا ہے لہذا آپ کو چاہیئے کہ اس بات کو دل سے نا لگائیں۔

XS
SM
MD
LG