رسائی کے لنکس

سرکاری میڈیا بھی نایاب ملی نغمے مجھ سے مانگتا ہے: ابصار احمد


ابصار احمد شہر قائد کے رہائشی ہیں۔ کم عمری کے باوجود ان کے پاس جنگ عظیم دوئم، پاکستان بننے سے قبل کے، 1947ء سے لیکر آج تک، مشرقی پاکستان کے وقت کے اور برسوں پرانے آل انڈیا ریڈیو سے بجنے والے وہ تمام ملی نغمات محفوظ ہیں جن کی تعداد ہزاروں میں ہے

ابصار احمد فطری طور پر ان نوجوانوں میں سے ایک ہیں جن کے شوق سب سے مختلف اور منفرد شمار ہوتے ہیں۔ انہیں ملی نغمے جمع کرنے کا جنون کی حد تک شوق ہے۔ ابصار کا دعویٰ ہے کہ سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کے پاس بھی وہ ملی نغمے نہیں جو ان کے پاس ہیں۔ ان کے بقول، ’سرکاری میڈیا بھی ملی نغمے مجھ سے مانگتا ہے۔‘

وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو کے دوران انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ’مجھے چھ برس کی عمر سے قومی نغمات اپنی طرف کھینچتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے معنی و مفہوم سمجھ میں نہ آنے کے باوجود، یہ میرے دل پراتنا اثر کرتے تھے کہ ایک بار سن کر ہی وہ مجھے حفظ ہوجاتے تھے۔‘

اُن کے الفاظ میں، ’میرے پاس وہ تمام نایاب اور یادگار قومی نغمات موجود ہیں جو اب پاکستان میں کسی کے پاس نہیں کیوں کہ ریڈیو پاکستان کی لائبریری میں آگ لگی تو کئی قیمتی ٹیپس ضائع ہوگئیں۔ لہذا، میرے مجموعے ہی سے ریڈیو پاکستان نے فائدہ اٹھایا۔‘

کراچی کے علاقے ایف بی ایریا میں رہائش پذیر ابصار احمد نے مزید بتایا کہ ’میں نو سال کا تھا تب سے ملی نغمے جمع کر رہا ہوں۔ یہ میرا شوق تھا اور ہے۔ اس وقت میرے پاس ملی نغموں اور ترانوں پر مشتمل 500 سے زائد کیسیٹس اور 200 گراموفون ریکارڈ موجود ہیں، جبکہ ہارڈ ڈسک میں محفوظ نغمے اس کے علاوہ ہیں۔ اگر ان نغموں کی کیسیٹس تیار کی جائیں تو ان کیسیٹس کی تعداد 1000 سے بھی آگے نکل جائے گی، جبکہ نغموں کی تعداد کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔‘

اُنھوں نے کہا کہ، ’میں کرتا یہ تھا کہ جب اور جہاں کوئی بھی قومی نغمہ نظر آتا خواہ وہ کیسٹ کی شکل میں ہوتا یا کسی اور شکل میں۔۔ میں اسے اپنے ’خزانے‘ کا حصہ بنا لیتا۔ بچپن میں، میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کو حسرت سے دیکھتا اور سوچتا تھا کہ جانے یہاں جانے کا میرا نمبر کب آئے۔ قسمت نے جلد یاوری کی اور میں بہت جلد اسی شوق کے تحت ریڈیو پاکستان بلالیا گیا‘۔

ابصار نے مزید کہا کہ ’میری عمر ابھی 30سال بھی نہیں ہوئی جیسے جیسے عمر اور تجربہ بڑھے گا میرے شوق اور میرے ذخیرے یا خزانے میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔ میں بہت پر عزم ہوں۔‘

ابصار ملی نغمے جمع کرنے کے ساتھ ساتھ مضمون نگاری کا بھی شوق رکھتے ہیں۔ انہیں ریڈیو پاکستان اور ایف ایم ریڈیوز کے پروگراموں میں بطور میزبان کام کرنے کا بھی تجربہ ہے۔ وہ کوئز پروگراموں میں اپنے ذہانت کے سبب بہت سے انعامات بھی جیت چکے ہیں۔وہ فی الحال ایک پرائیویٹ کمپنی میں جاب کرتے ہیں۔

انہیں سب سے زیادہ پیار اپنے کلیکشن سے ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ’اپنے کلیکشن میں ایک ایک نغمے کا اضافہ کرنے کے لئے میں نے میلوں کا سفر بھی طے کیا ہے۔ ملک کے کونے کونے میں گیا اور جس سے جو نغمہ، جس شرط پر ملا اسے اپنے ساتھ لے آیا۔ یہاں تک کہ کباڑی بازار کے بھی درجنوں چکر لگائے اور اب بھی لگالیتا ہوں۔‘

انہیں قومی یا ملی نغموں سے متعلق جو معلومات ہیں ان کے حوالے سے وہ کہتے ہیں، ’پاکستان میں سات عشروں میں سب سے زیادہ نغمات لکھے گئے۔ ان کی تعداد چار ہزار سے کچھ زیادہ ہے۔ ان میں سے 90 فیصد سے زیادہ نغمے میرے پاس محفوظ ہیں۔ یہ علاقائی اور قومی دونوں زبان میں تیار کئے گئے ہیں‘۔

اپنے کلیکشن کی ایک اور خاصیت کا ذکر کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ، ’پاکستان بننے سے قبل بھی دو قومی نغمات اکثر آل انڈیا ریڈیو سے نشر ہوا کرتے تھے۔ یہ نغمے اب شاید ہی کسی کو یاد ہوں۔ مگر یہ دونوں نغمے میرے پاس محفوظ ہیں۔یہی نہیں بلکہ ریڈیو پاکستان ڈھاکا میں بننے والے بنگالی زبان کے قومی نغمات بھی میرے کلیکشن کا حصہ ہیں۔جنگِ ستمبریعنی 1965ء کے دوران 50 سے زائد قومی نغمات ملکی فضاوٴں میں بکھرے۔ ان میں سے صرف12 نغمات ہی آج سرکاری چینل کی لائبریری میں محفوظ ہیں۔ لیکن وہ تمام کے تمام نغمات میرے پاس کیسٹ اور گراموفون ریکارڈز کی شکل میں موجود ہیں۔‘

ابصار نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’دورِ حاضر میں بھی ملی نغمات کو پذیرائی ملتی رہی ہے بلکہ جن گانوں کو پذیرائی نہیں بھی ملی وہ بھی میرے کلیکشن کا ایک اہم حصہ ہیں۔اسی طرح سنہ 1971 کی جنگ میں تیار ہونے والے نغمات اور اس سے پہلے دور میں نظر ڈورائیں تو جنگ عظیم دوم کے دوران آل انڈیا ریڈیو سے نشر ہونے والے نغمات بھی میرے پاس موجود ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ملکی نغمات یکجا کرنے کی جانب کسی بھی ادارے یا فرد نے خاظر خواہ توجہ نہیں دی۔ ’بس مجھے یہی خوشی ہے کہ اپنے شوق کی بدولت مجھے قومی ورثے کوسنبھالنے کا موقع ملا۔ سن 1947ء سے لے کر اب تک بنائے جانے والے تقریباََ تمام پاکستانی قومی نغمات اور جنگی ترانے محفوظ رکھنے کا کام کوئی آسان نہیں خاص کر ایسی صورتحال میں جبکہ دوسرے کسی شخص کے پاس ان کے ملنے کے امکانات بالکل ہی معدوم ہیں، میں اپنے آپ کو بس اسی حوالے سے خوش نصیب تصور کرتا ہوں کسی سے انعام واکرام، شہرت یا ایوارڈ کی تمنا کے بغیر صرف شوق یا جنون کے ہاتھوں اب تک اسے جاری رکھا ہوا ہے۔‘

اُنھوں نے مزید کہا کہ، ’اس کام میں مجھے کسی کی معاونت حاصل نہیں نہ ہی کوئی پیسہ پائی میں کسی سے لیتا ہوں ۔ان دنوں اسی شوق پر ایک کتاب وہ بھی اپنے ہی وسائل سے مرتب کررہا ہوں۔ کتاب میں ہر ملی نغمے کی خاصیت موجود ہوگی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس نوعیت کی کتاب پاکستان میں تو کیا شاید بھارت میں بھی اب تک شائع نہیں ہوئی۔‘

انٹرویو کے دوران، ابصار نے ایک طویل فہرست بھی فراہم کی جس میں کئی سو ملی نغمات کی تفصیل درج ہے، مثلاً یہ نغمہ کس سنہ میں بنا، کون کون سے گلوکاروں نے اسے گایا، موسیقار کون تھا، شاعری کس کی تھی۔۔ یہ تفصیل اس قدر ضخیم ہے کہ یہاں شائع کرنا مشکل ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG