رسائی کے لنکس

اقوام متحدہ کا سالانہ اجلاس۔۔ موضوعات اور توقعات

  • مارگریٹ بشیر

نیویارک میں اقوام متحدہ کے مرکزی دفاتر

نیویارک میں اقوام متحدہ کے مرکزی دفاتر

آئندہ پیر سے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس شروع ہورہا ہے جس میں دنیا کے ایک سو نوے ملکوں کے راہنما ان تمام معاملات پر عالمی برداری کی توجہ مبذول کرائیں گے جنہیں وہ اپنے علاقوں کے لیے باعث تشویش سمجھتے ہیں۔ اس کانفرنس میں اقوام متحدہ کے ملینیئم ڈیولپمنٹ پروگرام کے اہداف بھی زیر بحث آئیں گے ۔ تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ اس تین روزہ اجلاس کی زیادہ تر کارروائی بند کمرے میں ہوگی ۔

اقوام متحدہ کی طویل روایت کے تحت برازیل کے صدر بحث کا آغاز کریں گے، جس کے بعد امریکہ کے صدر میزبان ملک کے سربراہ کے طور پر اجلاس سے خطاب کریں گے ۔ اس سال کے اجلاس کے دوران اقوام متحدہ کے ملینیئم ڈیولپمنٹ پروگرام پربھی تین روزہ کانفرنس ہوگی ، جس میں دنیا کے 140 ملکوں کے صدور اور وزرا اعظم شرکت کریں گے ۔ ملینیئم ڈیولپمنٹ پروگرام کے مقاصد میں عالمی سطح پر غربت ، بھوک ، اور مہلک امراض کو2015 ء تک کم کرنا شامل ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نےخبردار کیا ہے کہ 2015ء کا یہ ہدف اب صرف پانچ سال کی دوری پر ہے اور خدشہ ہے کہ کئی ممالک خصوصاً سب صحارن افریقہ کے ملک انہیں حاصل نہیں کر سکیں گے ۔ لیکن ان کا کہنا ہےکہ درست حکمت عملی اپنا کر یہ ملک ان اہداف کے نزدیک پہنچ سکتے ہیں ۔

انہوں نے مزید کہ کہا کہ اگر ہماری سیاسی اور وسائل کی ترجیحات درست ہوں ، تو ہم مل جل کر ان اہداف کو حاصل کر سکتے ہیں ۔ اور اگر ترقی پذیرممالک کی ترجیحات زیادہ واضح ہوں ، وہاں گورننس کی صورتحال بہتر ہو ، وہ اپنے محدود وسائل میں بھی تعلیم ، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور ماؤں اور بچوں کی صحت کے شعبوں پر توجہ دیں تو یہ اہداف حاصل ہو سکتے ہیں ۔

ماؤں کی صحت اور بچوں کی شرح اموات کم کرنا ان اہداف میں سب سے اہم ہے ۔ اقوام متحدہ کے اجلاس میں ان اہداف کے حصول کے عملی منصوبوںکا اعلان کیا جائے گا اور اقوا م متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ایک انتہائی سادہ مگر اہم پیغام اس دستاویز میں رکن ممالک کے سامنے رکھا جائے گا ۔

اقوام متحدہ کے ادارے کی فعالیت یا اس کے مؤثراور غیر مؤثر ہونے پر بحث ایک عرصے سے جاری ہے، مگر نیویارک میں ہرسال ہونے والا یہ اجلاس عالمی راہنماؤں کو تقریروں کے علاوہ ایک دوسرے سے براہ راست ملاقات کرنے اور چھوٹے گروپس میں نتیجہ خیز گفتگو کا موقعہ فراہم کرتا ہے ۔

اس سال یہ اجلاس ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب صومالیہ اور افریقہ کے کئی ملکوں میں تشدد اور سیاسی عدم استحکام ، پاکستان میں صدی کے سب سے بڑے سیلاب ، اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سیاسی بے چینی کی لہر اپنے عرو ج پر ہے جبکہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ ابھی اپنے انجام کو نہیں پہنچ سکی ، ایسے میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں کیا موضوعات زیر بحث آئیں ؟ مبصرین کے مطابق اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ یہ اجلاس کسی عالمی مسئلے کے حل میں کوئی کردار ادا کرتا ہے یا نہیں ۔

XS
SM
MD
LG